گوانتانامو بند کرنے کی سینیٹ مخالف

امریکہ کی سینیٹ میں خلیج گوانتانامو کے قیدیوں کے امریکہ منتقل کیئے جانے کے صدر اوباما کے منصوبے کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا گیا ہے اور اس قید خانے کو بند کیئے جانے کے لیے درکار رقم کی منظوری دینے سے انکار کر دیا ہے۔

صدر اوباما کے اس مجوزہ منصوبے کے حق میں صرف چھ ووٹ پڑے جب کے نوے سینیٹروں نے اس کے خلاف ووٹ دیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے آٹھ کروڑ ڈالر کی رقم کی منظوری دینے سے بھی انکار کر دیا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ جنوری سن دو ہزار دس تک گوانتانامو کو بند کرنے کے صدر اوباما کے منصوبہ کے خلاف لوگوں کی تببیہہ ہے۔

دریں اثناء ایف بی آئی ڈائریکٹر رابرٹ ملر نے کانگرس کی ایک سماعت کے دوران کہا کہ اگر ان قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تو یہ امریکہ میں دہشت گردی کی حمایت کریں گے۔

رابرٹ ملر نے ایوان کی عدلیہ کے بارے میں ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد کے بارے میں انہیں خدشہ ہے کہ وہ رہا ہونے کے بعد دہشت گردی کے لیے مالی مدد فراہم کر سکتے ہیں اور دوسروں کو شدت پسندی پر اکسا سکتے ہیں۔

اس دوران ایک جج نے اپنے علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ان قیدیوں کو بغیر کوئی الزام عائد کیئے لمبے عرصے تک قید رکھ سکتا ہے۔

سینیٹ کے فیصلے سے پہلے ایوان نمائندگان بھی اس منصوبے کو رد کر چکا ہے۔

ڈیموکریٹ اور رپبلکن دونوں پارٹیوں کے ارکان کا استدلال ہے کہ گوانتانامو کو بند کرنے کے لیے بہتر طریقے بھی ہو سکتے ہیں۔

خلیج گوانتانامو میں یہ قید خانہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد سابق صدر جارج بش نے قائم کیا تھا جس میں اب بھی دو سو چالیس قیدی موجود ہیں۔

صدر اوباما کہہ چکے ہیں وہ اس قید خانے کو جنوری دو ہزار دس تک بند کر دینا چاہتے ہیں اور نئی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس تاریخ تک اس قید خانے کو بند کیا جانا ممکن ہے۔

بہت سے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ گوانتانامو کے قیدیوں کو امریکہ منتقل کیئے جانے کے صدر اوباما کے منصوے پر ابھی نئی انتظامیہ انہیں قائل نہیں کر سکی۔

رپبلکن سینیٹر جان تھیوں کا کہنا ہے کہ امریکی عوام ان لوگوں کو امریکہ کے گلی کوچوں میں آزادانہ گھومتے پھرتے دیکھنا نہیں چاہتے۔

رپبلکن سینیٹر مچ میکونیل کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو اس قید خانے کو بند کرنا کو کوئی بہتر منصوبہ دینا پڑے گا۔

ڈیموکریٹ اراکین کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے ایک تفصیلی منصوبہ سامنے آنے کے بعد ہی وہ اس کے لیے درکار رقم دینے کے بارے میں دوبارہ غور کریں گے۔

واشنگٹن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز کماراسوامی کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی کے بہت سے ارکان اس قید خانے کو بند کرنے کے حق میں ہیں لیکن انہیں احساس ہے کہ کسی ناقابل عمل یا جلدی بازی میں بنائے گئے منصوبے کے لیے رقم فراہم کرنے کی منظوری دینے سے رپبلکن پارٹی کو تنقید کرنے کا موقع مل جائے گا۔

اس سے قبل صدر اوباما نے ان قیدیوں پر مقدمات چلائے جانے والی فوجی عدالتوں کو بھی بحال کر دیا تھا۔

صدر اوباما نے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سابق صدر بش کے دور میں قائم کی جانے والی فوجی عدالتوں کو روک دیا تھا اور انہوں نے کہا کہ امریکہ انسانی حقوق کی پاسداری کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

ان قیدیوں کے بارے میں نئے قانونی طریقے تجویز کرتے ہوئے انہوں نے دو ہزار چھ میں ان فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ دیا تھا۔