’آسٹریلیا گوانتاموبے قیدیوں کو بسا لے‘

امریکی صدر براک اوباما نے آسٹریلیا سے درخواست کی ہے کہ وہ گوانتاموبے میں قید مسلمان چینی باشندوں کو اپنے ہاں بسا لے کیونکہ ان کا واپس چین بھیجنا خطرناک ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے گوانتاموبے قید خانے کو دو ہزار دس میں بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ گوانتاموبے میں اب بھی دو سو چالیس افراد قید ہیں جن میں کچھ کے خلاف تو امریکہ مقدمات چلانے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن وہ اکثریت کو رہا کرنا چاہتا ہے۔
اس سے پہلے بش انتظامیہ نے آسٹریلیا سے درخواست کی تھی کہ وہ اوغر باشندوں کو آباد کر لے۔اس وقت کی آسٹریلوی حکومت نے امریکی درخواست کو رد کر دیا تھا۔ آسٹریلیا کی موجودہ حکومت نے کہا ہے کہ وہ امریکہ درخواست پر غور کرے گی۔
امریکہ نے ان چینی باشندوں کو افغانستان پر حملے کے دوران افغانستان سے گرفتار کیا تھا۔
ادھر چین نےگوانتاموبے سے رہا ہونےوالے اوغر باشندوں کو چین کے حوالے کرنے کا مطالبہ ہے۔ چین نے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان دہشتگردوں کو اپنے ہاں بسانے سےاجنتناب کریں۔ گوانتاموبے میں قید مسلمان چینی باشندوں کا تعلق چین کے صوبے اوغر سے ہے جہاں علحیدگی پسند جماعت کو چینی حکومت دہشتگرد جماعت گردانتی ہے۔
امریکہ ان قیدیوں کو ان کے اپنے ممالک کے حوالے کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ایسے ممالک کے حوالے نہیں کرنا چاہتا جہاں قیدیوں کو مزید سزائیں دیے جانے کا امکان ہو۔لیکن امریکہ ان باشندوں کو اپنے ملک میں بھی بسانے سے گریز کر رہا ہے۔
امریکہ نے حال ہی میں پانچ اوغر باشندوں کوگوانتاموبے سے رہا کر کے البانیہ بھیج دیا تھا۔ البانیہ مزید اوغر باشندے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پانچ چینی باشندوں کی رہائی کے بعد سترہ چینی مسلمان اب بھی گوانتاموبے جیل میں ہیں۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ رہا ہونے والے باشندے واپس چین جانے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ چین کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرے گی ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















