ستائیس ملک، چار دن، ایک انتخاب

یورپی پارلیمنٹ
،تصویر کا کیپشنیہ واحد کثیر الاقوامی پارلیمنٹ ہے جس کے ارکان کا انتخاب براہِ راست کیا جاتا ہے

شمال میں فن لینڈ سے جنوب میں مالٹا تک یورپی یونین کے ستائیس ملکوں کے ساڑھے سینتیس کروڑ لوگ اس ہفتے چار روز تک اپنے ووٹوں سے ان سات سو چھہتر مردوں اور عورتوں کا انتخاب کریں گے جو آئندہ پانچ برسوں تک یورپی پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی کریں گے۔

یہ واحد کثیر الاقوامی پارلیمنٹ ہے جس کے ارکان کا انتخاب براہِ راست کیا جاتا ہے اور یہ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے بین الملکی انتخِابات بھی ہوں گے۔

ان ستائیس ملکی انتخابات کے لیے محض چند اور مشترکہ ضابطے یہ ہیں کہ یہ انتخابات آزادانہ، منصفانہ اور متناسب نمائندگی کی بنیاد پر ہوں گے۔

یونین میں شامل ہر ملک پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے قوانین اور روایات کے مطابق یہ انتخابات کرائے۔

لیکن بالعموم ووٹر پارٹی فہرست میں دیے گئے امیدواروں کی فہرست میں سے اپنے ترجیح کے مطابق نشان لگائیں گے لیکن چند ایک ملکوں میں جیسے برطانیہ اور فرانس میں ووٹر کسی ایک پارٹی کے حق میں ووٹ دیں گے۔

ووٹ ڈالنے کے دن اور وقت میں مختلف ملکوں کے اعتبار سے کچھ فرق ہو سکتا ہے لیکن برطانیہ اور ہالینڈ میں ووٹنگ جمعرات سے شروع ہو جائے گی۔ جمعہ کو چیک ریپبلک اور آئرلینڈ میں، سنیچر کو آسٹریا، بیلجیم، بلغاریہ، ڈنمارک، استونیہ، فن لینڈ اور فرانس میں ووٹ ڈالے جائیں گے اور باقی ملکوں میں ووٹنگ اتوار کو ہوگی۔

یورپی پارلیمنٹ
،تصویر کا کیپشنیہ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے بین الملکی انتخِابات بھی ہوں گے۔

شرح کو بہتر بنانے کے لیے استونیا نے گزشتہ ہفتے سے ہی آن لائن ووٹنگ شروع کرا دی ہے۔ اس طرح استونیہ پہلا ملک ہے جس نے ووٹنگ کے لیے انٹرنٹ کا استعمال کیا ہے اور ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ دوسرے ممک اس کی تقلید کرتے ہیں یا نہیں۔

عالمی معیاری وقت کے مطابق نتائج کا اعلان اتوار کو رات آٹھ بجے سے پہلے نہیں ہو گا لیکن نصف شب تک صورتِ حال بالکل واضح ہو جائے گی۔