مسجد پر حملہ، پاکستانی سفیر طلب

زاہدان کا شمار ایران کے انتہائی پس ماندہ علاقوں میں ہوتا ہے
،تصویر کا کیپشنزاہدان کا شمار ایران کے انتہائی پس ماندہ علاقوں میں ہوتا ہے

ایران نے تہران میں پاکستانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے زاہدان کی مسجد میں دھماکہ کرنے والےگروپ جندولہ گروپ کی کارروائیوں پر احتجاج کیا ہے۔

جمعرات کی شام زاہدان شہر کی ایک مسجد میں بم پھٹنے سے کم سے کم پچیس افراد ہلاک ہوگۓ تھے۔

علاقے میں سرگرم سنی گروہ جندولہ نے مسجد میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ایران نے تین دنوں کے اندر مبینہ <link type="page"><caption> حملوں آوروں کو پھانسی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/05/090530_iran_hanging.shtml" platform="highweb"/></link> پر لٹکا دیا ہے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے خبر دی ہے کہ ایرانی دفتر خارجہ نے پاکستان سفیر محمد بخش عباسی کو دفترخارجہ طلب کر کے جندولہ گروپ کی غیر قانونی سرگرمیوں پر شدید احتجاج کیا ہے۔

ایران نے زاہدان میں بم دھماکے کے بعد امریکہ اور اسرائیل پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایران میں تشدد کی کارروائیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

پاکستان کے سفیر نے ایران حکام کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان ایران کے تحفظات پر غور کرے گا۔ پاکستان سفیر نے کہا کہ پاکستان شدت پسندوں کی سرگرمیوں کو روکنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔

پاکستان سفیر نے ایرانی حکام کو بتایا کہ کچھ لوگ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری نہیں دیکھنا چاہتے اور جب بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کا عمل شروع ہوتا ہے تو اس طرح کی کارروائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔

پاکستان سفیر نے ایرانی حکام کو بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام کو احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

ایک روز قبل خود کو جندولہ تنظیم کا ترجمان بتانےوالے عبد الراؤف رگی نے <link type="page"><caption> حملے کی ذمہ داری قبول</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/05/090530_ahmadi_office_attack_ra.shtml" platform="highweb"/></link> کی تھی۔ سعودی ٹی وی چینل العریبیہ کو بتایا کہ ایک خود کش حملہ آور نے ایران کے انقلابی گارڈز کی ایک خفیہ میٹنگ کو نشانہ بنایا جس میں پچیس افراد ہلاک ہوئے۔ ہے۔

زاہدان جو پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے نزدیک واقع ہے کی اکثریتی آبادی سنی ہے اور اس کا شمار ایران کے انتہائی پس ماندہ شہروں میں ہوتا ہے۔

.