فرانس کا جہاز 228 افراد سمیت لاپتہ

ایئر فرانس کا ایک جہاز جس میں دو سو اٹھائیس مسافر سوار تھے، بحرِ اوقیانوس کے اوپر پرواز کے دوران لاپتہ ہوگیا ہے۔خدشہ ہے کہ جہاز پر آسمانی بجلی گری تھی۔
یہ جہاز مسافروں کو برازیل سے لے کر فرانس جہا رہا تھا کہ اٹلانٹک کے اوپر پرواز کے دوران ریڈار پر نظر آنا بند ہو گیا۔اس جہاز کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح نو بجکر دس منٹ پر فرانس پہنچنا تھا۔
ایئر فرانس کے مطابق گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح دو بجکر چودہ منٹ پر جہاز نے خود کار نظام کے تحت ایک پیغام بھیجا تھا کہ پرواز ناہموار ہونے کے بعد جہاز کے شارٹ سرکٹ میں خرابی پیدا ہوگئی ہے۔
فرانس کی فضائی کمپنی ایئر فرانس کے چیف ایگزیکٹو پیاخ ہینری نے اخبار نویسوں کو بتایا ’اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ ہمیں ایک فضائی حادثے کا سامنا ہے۔ ہماری پوری کمپنی مسافروں کے لواحقین کے بارے میں سوچ رہی ہے اور ان کے درد میں شریک ہے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جہاز پر بجلی گری ہو تاہم کچھ حکام اس امکان کو تسلیم کرنے میں تامل ہے۔
اس خیال کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ جتنی دیر سے جہاز لاپتہ ہے اتنے عرصے میں اس کا ایندھن ختم ہو گیا ہوگا۔
فرانس میں چارلس ڈی گال ائیرپورٹ کا کہنا ہے کہ برزایل کے دارالحکومت ریئو ڈی جینیرو کے حکام کے جہاز کے ساتھ رابطہ گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بجے ختم ہوگیا۔
برازیل کی فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ مسافر جہاز لاپتہ ہے اور فرناندو دی نورونہا کے جزیرے کے قریب تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلائٹ اے ایف 447 مقامی وقت کے مطابق اتوار کی شام سات بجے برازیل سے روانہ ہوئی اور اس میں دو سو سولہ مسافر اور عملے کے بارہ ارکان موجود تھے جن میں تین پائلٹ بھی ہیں۔
فرانس میں چارلس ڈی گال ائرپورٹ پر ایک ہنگامی مرکز قائم کر دیا گیا ہے اور کئی جہاز بحرِ اوقیانوس کی طرف روانہ کیے گئے ہیں جو گمشدہ جہاز کی تلاش کر رہے ہیں۔




















