’ایران کے پاس ایک ہزار کلو گرام یورینیم‘

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ایران نے ایک ہزار تین سو کلوگرام یورینیم جمع کر لیا ہے جبکہ شام کے پاس بھی یورینیم کی موجودگی کے آثار پائے گئے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس جتنی مقدار میں یورینیم کی موجودگی کا اندازہ لگایا گیا ہے وہ ایک جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے۔
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل امریکہ کے ان دعوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے کہ ستمبر 2007 میں اسرائیل نے شام کے جس مقام پر حملہ کرکے اسے تباہ کیا تھا، وہ ایک جوہری ری ایکٹر تھا جس نے ابھی کام کرنا شروع نہیں کیا تھا۔
گزشتہ سال اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کو شام کے الکبیر جوہری مرکز سے یورینیم کے آثار ملے تھے۔اسرائیل نے شام کے اس جوہری مرکز کو 2007 میں ایک میزائل حملے میں تباہ کر دیا تھا۔
بی بی سی کو ملنے والی ایک خفیہ رپورٹ کے شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب ایک چھوٹے ریکٹر کے معائنے کے دوران آئی ایے ای اے کو ایسی یورینیم کے آثار ملے ہیں جن سےمتعلق شام نے اقوام متحدہ کو نہیں مطلع نہیں کیا ہے۔ شام اس چھوٹےجوہری ریکٹر کو تعلیمی مقاصد کے استعمال کرتا ہے۔
دوسری جانب ادارے کا کہنا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کی ہدایات کے برعکس یورینیم کی افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔
سیکورٹی کونسل نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کی تمام سرگرمیاں اس وقت تک بند کر دے جب تک جوہری توانائی کے عالمی ادارے ’آئی اے ای اے‘ کے نگران اس کے یورینیم افزودگی کے پروگرام کا معائنہ نہیں کر لیتے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کا جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مغربی ممالک اور امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی دھمکیاں بھی دے چکا ہے۔اسرائیل ماضی میں عراق اور شام کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر چکا ہے۔



















