شمالی کوریا کے خلاف قرارداد منظور

- مصنف, حسن مجتبیٰ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک
اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل نے عوامی جمہوریہ شمالی کوریا کے خلاف نئی لیکن سخت پابندیوں کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔
شمالی کوریا کے خلاف اسکے پچیس مئي کو جوہری دھماکے کرنے کے خلاف ایسی قرارداد نیویارک میں جمعے کی دوپہر سلامتی کونسل کے اجلاس میں پندرہ رکنی مستقل اراکین کے متفقہ ووٹوں سے منظور کی گئی۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر میں سلامتی کونسل کے پندرہ مستقل اراکین پر مشتمل کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تمام مستقل اراکین ممالک نے شمالی کوریا کی طرف سے گذشتہ پچیس مئی کو جوہری دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسکے خلاف سخت ترین قرارداد بطور ریزولیوشن اٹھارہ سو چوہتر منظور کر لی۔
سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے خلاف سخت ترین اقدامات کے سلسلوں کا اعلان کیا ہے جس میں اسکے مشتبہ جوہری بالیسٹک میزائیلوں کی تیاری اور تجربات کے متعلق سامان کی پڑتال اور چھوٹے اسلحے کے علاوہ ہر قسم کے اسلحے پرنئی پابندیوں اور نئی معاشی پابیوں کا بھی اطلاق کیا جائے گا۔
ماہ رواں کیلیے سلامتی کونسل کی صدر ترکی کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے اجلاس کی صدرات کرتے ہوئے جاپان کی طرف سے سلامتی کونسل کو خط کی صورت اور چین کی طرف سےلی گئی تحریک کے نتیجے میں قرارداد پر ووٹ کرایا جسے متفقہ طور پر تمام مستقل پندرہ اراکین نے منظور کرلیا۔
امریکہ کی اقوامِ متحدہ میں نائب سفیر روزمیری ڈیکارلو نے کہا کہ نئی ووٹنگ شمالی کوریا کے ناقابلِ قبول رویے کے خلاف سخت اور متحدہ ردِ عمل ہے۔
چین کے سفیر زانگ یےسوئی نے کہا کہ قرارداد شمالی کوریا کے جوہری ارادوں کے خلاف دنیا کی سخت مخالفت ہے۔


















