نیویارک ٹائمز کا رپورٹر رہا

ڈیوڈ رہوڈ
،تصویر کا کیپشنڈیوڈ رہوڈ طالبان کمانڈر کا انٹرویو کرنے جا رہے تھے جب انہیں اغوا کر لیاگیا تھا

نیویارک ٹائمز کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کے سات ماہ سے اغوا نامہ نگار ڈیوڈ رہوڈ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان سے اغوا کاروں کے کنٹرول سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

ڈیوڈ رہوڈ کو نومبر میں اپنے مترجم اور ڈرائیور کے ہمراہ اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ کابل سے اپنے افغان مترجم اور ڈرائیور کے ہمراہ ایک طالبان کمانڈر کا انٹرویو کرنے کے لیے نکلے تھے۔

نیویارک ٹائمز نے نامہ نگار کی حفاظت کے پیش نظر امریکی میڈیا سے اغوا کی خبر نشر نہ کرنے کی درخواست کر رکھی تھی۔

اخبار نے کہا ڈیوڈ رہوڈ اپنے ساتھی مترجم کے ہمراہ پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان کے ایک گھر کی دیوار پھلانگ کر وہاں سے فرار ہو کر پاکستان فوج کے پاس پہنچ گئے جہاں سے انہیں افغانستان میں امریکی اڈے بگرام پہنچا دیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے تمام امریکہ ڈیوڈ رہوڈ کی رہائی سے انتہائی خوش ہے۔

ڈیوڈ رہوڈ کے ڈرائیور اب بھی اغوا کارروں کی حراست میں ہیں۔

ڈیوڈ رہوڈ کی بیوی نے رہائی کی خبر پر اپنی ردعمل میں کہا کہ وہ اپنے شوہر سے ملاقات کے لیے بے تاب ہیں۔ ڈیوڈ رہوڈ کی نو ماہ پہلے شادی ہوئی تھی اور وہ پچھلے سات ماہ سے اغوا تھے۔

.ڈیوڈ رہوڈ نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کی اس ٹیم سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں اسی سال صحافت کا پلٹزر پرائز ملا تھا۔