سعودی شہزادہ بھائی پر برس پڑا

سعودی عرب میں شاہی خاندان کے اندر اختلافات جو اب تک دبے دبے تھے، کھل کر سامنے آگئے ہیں اور ایک شہزادے نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے بھائی کے اثاثے ضبط کر لیے جائیں۔
شہزادے خالد بن طلال نے کھلم کھلا اپنے بھائی کے میڈیا سے متعلق وسیع کاروبار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کی شاہی خاندان میں کوئی مثال نہیں ہے۔ شہزادہ ولید بن طلال دنیا کی ایک امیر ترین کاروباری شخصیت ہیں۔
شہزادے خالد نے اپنے بھائی شہزادے ولید بن طلال کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بدی کو عام کر رہے ہیں اور (قدامت پسند سلطنت میں) اسلام کے شرعی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
کافی عرصے سے یہ بات عام ہے کہ خاندانِ سعود میں لبرل اور قدامت پسندوں کے درمیان ایک خلیج حائل ہے لیکن اب سے قبل یہ معاملہ اس طرح سامنے نہیں آیا جیسے اب آیا ہے۔
شہزادے خالد کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے پہل اپنے بھائی کو خاموشی سے نصیحت کی کہ وہ اپنے طور اطوار درست کریں لیکن جب شہزادے ولید پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا تو وہ سرِ عام بات کرنے پر مجبور ہوگئے۔
شہزادہ ولید بن طلال جو اپنے لبرل طرزِ زندگی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، میڈیا سے متعلق بہت بڑے کارربار کے مالک ہیں جس میں ایسے تفریحی چینل بھی ہیں جن کی وجہ سے قدامت پسند سعودی باشندے کافی عرصے سے ناراض ہیں۔
شہزادے خالد نے ایک عربی ویب سائٹ کو بتایا کہ شہزادے ولید کے سعودی عرب کے معاشرے میں سینیما متعارف کرانے کے منصوبے نے انہیں زباں کشائی پر مجبور کیا ہے۔ یہ تنقیدی جملہ اس فلم کی طرف اشارہ ہے جس کی شہزادہ ولید نے اسلام پسندوں کی شدید مخالفت کے باوجود گزشتہ برس سعودی عرب میں نمائش کروائی تھی۔
سعودی عرب میں عہدِ جدید میں تفریح کی تقریباً ہر صنف، خصوصاً وہ اصناف جن میں مرد و زن یکجا ہوں، قدامت پسندوں کی نظر میں مخرب الخلاق سمجھی جاتی ہیں۔ قدامت پسندوں کا خیال ہے کہ ایسی تفریح سعودی ریاست اور معاشرے کی مذہبی بنیادوں کو کمزور اور کھوکھلا کر سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















