امریکی امداد اگر بچ گئی تو ۔ ۔ ۔

- مصنف, حسن مجتبٰی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک
امریکہ میں اب یہ ایک کھلا راز ہے کہ جب صدر آصف علی زرداری نے امریکہ کا دورہ کیا تھا تو امریکہ اور پاکستانی میڈیا میں ان کے دورے کی کامیابیوں کے تمام ڈھول تاشوں کے باوجود حقیقت میں وہ ہاتھوں خالی ہی واپس پاکستان گئے تھے۔ لیکن وہ زمانہ اور تھا اور یہ زمانہ اور ہے۔
قطع نظر اس کے کہ نیویارک سمیت امریکہ کے شہروں اور مضافات کی سڑکوں پر بے گھر و بے روزگار لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہےایسے دنوں میں پاکستان کے لیے ڈیڑہ ارب (ایک اعشاریہ پانچ بلین) ڈالر فی سال پانچ سال تک غیر فوجی امداد کے لوگر کیری بل کا امریکی سینیٹ سے منظور ہو جانا نہ فقط صدر آصف علی زرداری کی بلکہ اصل میں پاکستان اور پاکستانی عوام کی ’سروائیول جبلت‘ کا پتہ دیتا ہے۔ قطع نظر ان دو امریکی سینیٹروں کے کہ جنہوں نے پاکستان کی امداد تین گنا بڑھائے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان میں اب ایسی قیادت بر سرِ اقتدار ہے جسے ماضی میں مسٹر ٹیین پرسینٹ کہا جاتا تھا اور اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ امریکہ کی طرف سے دی جانے والی یہ بھاری بھر کم امداد پاکستانی لیڈروں کے سوئٹزر لینڈ بنک اکاؤنٹوں میں نہیں جاکر جمع ہو گی‘۔
’ان ہانسڈ پارٹنرشپس ود پاکستان ایکٹ دو ہزار نو‘ عرف کیری لوگر بل جسے اصل میں سب سے پہلے امریکی سینیٹ میں ریاست انڈیانا سے ریپبلیکن پارٹی کے منتخب رکن سینیٹر رچرڈ لوگر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر جان کیری نے ہی متعارف کروایا تھا اب درحقیقت نئي اوباما انتظامیہ کی طرف سے پاکستانی حکومت سے زیادہ پاکستانی عوام سے دوستی کا دعویٰ لیے ہوئے ہے کیونکہ ایک ارب ڈالر کی سالانہ فوجی امداد کے علاوہ سات اعشاریہ پانچ بلین ڈالر کے بل یا ایک بڑا حصہ غیر فوجی امداد پر محیط ہے جو سال دو ہزار تیرہ یا اس بھی آگے تک جاری رہنا ہے۔
کیری لوگر بل کے تحت غیر فوجی امداد کی رقم پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کی مضبوطی، عدلیہ، تعلیم اور اقتصادی اصلاحات، سڑکوں اور صحت عامہ پر خرچ کی جانی ہے۔ اس ضمن میں امدادی رقم کا بڑا حصہ براہ راست سول سوسائٹی یا غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) اور سوشل سیکٹر کی توسط سے پاکستان کو دیا جانا متوقع ہے۔
اگرچہ کیری لوگر بل میں ایک ارب ڈالر فوج اور پولیس کی تربیت اور اس کے دہشت گردی سے لڑنے کی مد میں رکھے گئے ہیں لیکن اسے مشروط رکھا گیا ہے کہ امریکی سیکرٹری خارجہ ہر سال یہ تصدیق نامہ جاری کریں گي کہ پاکستان کسی بھی صورت میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کی حمایت و مدد نہیں کر رہا ہے بلکہ وہ القاعدہ، طالبان اور کشمیر سمیت بھارت کے اندر دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کی کسی بھی صورت میں مدد نہیں کر رہا ہے۔
کیری لوگر بل کے پیچھے بڑے متحرک سینیٹر جان کیری نے سینیٹ سے بل کی منظوری کے موقع پر اس میں شامل فوجی امداد کے بارے میں کہا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس کا ایک ہر ایک ڈالر درست اور شفاف طریقے سے خرچ ہو رہا ہے۔
امریکی سینیٹ میں کیری لوگر بل کی منظوری کے وقت سینیٹر جان کیری نے کہا تھا کہ اس بل سے پاکستان کو غیر فوجی امداد تین گنا ہوکر ہر سال ڈیڑہ ارب ہوجائے گي جو پانچ سال تک ہوگي اور اس کے مزید اور پانچ سال فنڈ فراہم کرنے پر زور دیا جائے گا۔ یہ امداد اقتصادی میدان میں ہوگي جس سے پاکستان میں سڑکیں اور ہسپتال اور سکول تعمیر کیے جائيں گے۔ سینیٹر جان کیری کے بقول اس غیر فوجی امداد سے پاکستان کی کمزور سیولین حکومت کو خود کو مستحکم کرنے اور یہ ثابت کرنے کا موقع ملے گا کہ وہ پاکستانی عوام کی معیار زندگي بہتر کرسکتی ہے۔
لیکن کیپیٹل ہل اور واشنگٹن کو کور کرنے والے ایک سینئر تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ جہاں ایک سو ملین ڈالر کی فوجی امداد کے ضمن میں امریکی انتظامیہ براہ راست پاکستانی فوجی قیادت اور فوج سے رابطے میں رہے گي وہاں اس بل کی حتمی منظوری میں اب بھی رکاوٹیں موجود ہیں۔ دو طرفہ طور پر واشنگٹن میں پاکستان کے متعلق اب بھی شکوک شبہات پائے جاتے ہیں۔ بقول ایک سینئر پاکستانی تجزیہ نگار کے کہ کانگریس سے بہر حال کیری لوگر بل کی منظوری سے مشروط یہ رکاوٹ کہ اس بل کی منظوری تب تک نہیں دی جا سکتی جب تک پاکستان اپنے ایٹمی پروگرام کو ختم نہیں کرتا دور کر دی گئی ہے اور اب سیکرٹری خارجہ کو ہر سال اس کی تصدیق کرنی ہے کہ پاکستان القاعدہ، طالبان اور ممبئي بم دھماکے کرنے والی لشکر طیبہ اور اس جیسی تنظیموں کے خلاف خاطر خواہ انتظامات کر رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینیٹر جان کیری نے بل کی منظوری کے وقت امریکی سینیٹ کے فلور پر کہا تھا کہ امریکہ کی طرف سے مندرجہ بالا شرطیں پاکستان یا کسی بھی ملک کیلیے ’معقول اور آسان‘ ہیں۔
لیکن کیری لوگر بل امداد کو مشروط بنانے کی کوششوں پر پاکستانی حکومت نے امریکی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور کہنے والے کہتے ہیں کہ اس وقت صدر آصف علی زرداری اور ان کی ٹیم نے (جس میں پاکستان کے امریکہ میں سفیر حسین حقانی بھی شامل تھے) اس وقت سینیٹر جان کیری اور ان کے وفد کو سیدھی سیدھی سنائي تھیں جب وہ صدر براک اوباما کی طرف سے پاکستان کے لیے ٹاسک فورس کی قیادت کرتے ہوئے پاکستان کے دورے پر گئے تھے۔
امریکہ پاکستان تعلقات کے ماہر، پاکستان اور امریکہ کے بیچ میں ایسی بداعتمادی کی فضا کو ’ کانفیڈنس ڈیفیسٹ‘ قرار دیتے ہیں۔

بہرحال امریکہ کی طرف سے ’ڈو مور‘ پر صدر آصف علی زرداری کے ’گيو می مور‘ والا اصرار جیت گيا۔ سینیٹر جان کیری کی سربراہی میں ٹاسک فورس کو صدر زداری نے بتایا تھا کہ امریکہ، نیٹو اور اس کےاتحادی دہشت گردی کے خلاف جنگ، پاکستان کے اقتصادی اور سیاسی استحکام کے بغیر ہار جائیں گے۔ سینیٹر جان کیری نے پاکستان سے دورے سے واپسی پر امریکی سینیٹ اور صدر براک اوباما کی انتظامیہ کو آ کر بتایا تھا کہ گذشتہ دس برسوں میں پاکستان میں فوجی اسٹبلیشمینٹ کو امریکہ کے گیارہ بلین ڈالر خرچ کرنے کے باوجود طالبان اسلام آباد سے ساٹھ کلو میٹر دور کھڑے ہیں اور اب اگر امریکہ یہ جنگ واقعی جیتنا چاہتا ہے تو پاکستان کے عوام اور سیاسی حکومت کو مستحکم کرنا پڑے گا۔
’پاکستان میں رہنے والے کسی بھی شہری سے پوچھیں (میں زیادہ بڑی عمر والوں کی بات نہیں کر رہا) کہ ان کے پشاور، کراچی اور لاہور کس طرح ہوتے تھے تو آپ کو اپنی اس دنیا کی بات بتائے گا جو اب اس کے لیے دور افتاہ ہے۔ ہمیں اگر امریکہ کو محفوظ بنانا ہے تو پاکستان کے عوام کو امن او استحکام دینا ہوگا‘ سینیٹر جان کیری نے امریکی سینیٹ کے فلور پر کہا تھا۔
اسی لیے کیری لوگر بل کی ایک اچھی خاصی رقم پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری ادروں کو مضبوط بنانے کیلیے بھی رکھی گئی ہے۔
پانچ سالوں تک سالانہ تین گنا غیر فوجی امداد جسے کسی بھی صورت اوباما انتظامیہ تمام رکاوٹیں عبور کروا کر پاکستان کو پہنچوانا چاہتی ہے اگر امریکی انتظامیہ اور قانون سازوں کے زور آزما اعصاب اور پاکستانی فوجی و غیر فوجی قیادت کے غیر ملکی اکاؤنٹوں سے بچ گئي تو پاکستان کے لوگوں اور خاص طور دہشت گردی کے مارے ہوئے علاقوں کے عوام کے حالات میں مثبت فرق ضرور لا سکے گي!




















