برطانوی ٹی وی، ایرانی بوکھلاہٹ

’جیسا کے ایرانی آیت اللہ کہتے ہیں کے ایران میں اسلامی اقتدار کے خاتمے کی کوشش میں سرگرم سب سے اہم قوت تہران کی سڑکوں پر آنے والے لوگ نہیں ہیں بلکہ وسطی لندن میں واقع ایک خوشنما عمارت کا آراستہ پیراستہ بالائی فلور ہے‘۔
دی نیویارک ٹائمز نے اپنی انتیس جون دو پزار نو کی اشاعت میں ’برطانیہ کا فارسی ٹی وی اور ایرانی حکام کی بوکھلاہٹ‘ کے عنوان سے ایک مضمون شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’ ایران کے ایک نیم سرکاری خبررساں ادارے کے الفاظ میں اسلامی ریپبلک ایران کے خلاف ’کھلی جنگ‘ کا پروپیگنڈہ کرنے والے ایک سو چالیس مردوں اور عورتوں کا یہ گروہ لندن کے معروف خریداری مرکز آکسفرڈ سٹریٹ پر واقع بی بی سی براڈکاسٹنگ ہاؤس میں بیٹھ کر سنگباری کرتا ہے۔ ترک وطن کرنے والی ایرانی اکثریت پر مشتمل یہ لوگ بی بی سی کے فارسی زبان کے ٹی وی کے لیے کام کرتے ہیں‘۔
اخبار کا کہنا ہے کہ ’چھ ماہ قبل اپنی نشریات شروع کرنے والے اس ٹیلی ویژن کی نشریات اس وقت روزانہ چھ سے آٹھ ملین لوگ دیکھتے ہیں جو کہ ستر ملین کی آبادی رکھنے والے ایران کے لیے ایک بڑا تناسب ہے‘۔
اخبار کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار بی بی سی کے اندرونی ذرائع کے مطابق ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کی تیار کردہ ایک ایسی دستاویز سے لیے گیے ہیں جو افشا ہو گی تھی۔ اس دستاویز میں اس ادارے نے ایرانی حکومت کو جاری احتجاج اور نئے چینل سے پیدا ہو سکنے والے ممکنہ خطرات سے متنبیہ کیا تھا۔
اخبار کا کہبنا ہے کہ ’پرشین ٹیلیویژن یا پی ٹی وی جیسا کہ اس فلور پر بیٹھنے والے عام طور پر اسے کہتے ہیں، ایران کے صدارتی انتخابات کے خلاف تہران کی سڑکوں پر احتجاج کرنے والے ان لاکھوں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن ہے جو ان انتخابات کو دھوکہ یا فراڈ کہتے ہیں جن میں سخت گیر کہے جانے والے محمد احمدی نژاد کو دوسری بار منتخب صدر قرار دیا گیا ہے‘

۔ نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ ’بی بی سی جیسے غیر ملکی ٹی وی جس کے سگنل ایران کے اندر تک باآسانی پہنچتے ہیں، سماجی نیٹ ورک ٹول ٹویٹر اور فیس بُک جیسی سائٹ جیسے نئے ہتھیاروں نے ایران کے فرسودہ سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کیونکہ ان کے ذریعے ایران کے اندر نہ صرف لوگوں کو تمام سرگرمیوں کی اطلاعات باقاعدگی سے ملتی ہیں بلکہ وہ ایران کے باہر سے اندرونی پروگرام ترتیب دیتے ہیں ان پر بحث کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس پر مزید یہ موبائل فون کے ذریعے ایک دوسرے کو بھیجی جانے والی ویڈیو کی سہولت جس کے ذریعے تہران کی سڑکوں پر ہونے والے احتجاج کی لمحہ لمحہ تفصیلات باہر منتقل ہوتی رہیں اور یہ وسائل صرف ایران سے باہر کی دنیا ہی کے لیے اہم نہیں ہیں خود ایران کے لیے بھی اہم ہیں‘۔
لندن میں بی بی سی کے نیوز روم میں بیرون ملک کے انٹر ایکٹیو کے لیے کام کرنے والے ثنا مطلبی کہتے ہیں کہ ’نئے میڈیا کی وجہ سے اب ایران ایک بالکل مختلف ملک ہے‘۔
دوسروں کے مقابلے میں مطلبی نئی ٹیکنالوجی کی طاقت اور اسے کچلنے کے لیے ایرانی حکومت کے عزم کو کہیں زیادہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ سنہ دو ہزار تین میں وہ ایرانی حکومت مخالفین میں سرِ فہرست بلاگر تھے، اس بنا پر انہیں تہران کی سب سے بدتر جانی جانے والی جیل میں قاتلوں، زانیوں اور دوسرے جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے قید رکھا گیا۔ بی بی سی چینل میں کام کرنے والے لوگوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے اپنی پہلی عملی تربیت تہران کے اصلاح پسند اخباروں یا بلاگ لکھ کر حاصل کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایران کے نوآبادیاتی پس منظر کی وجہ سے ایرانی حکام کی نظر میں بی بی سی کی ایک خصوصی حیثیت حاصل ہے لیکن ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی کے سربراہ حامد رضا مقدم فر پی ٹی وی کی نشریات کو ’نفسیاتی جنگ‘ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کا مقصد ’جھوٹ اور افواہوں کو پھپیلانا اور حقائق کو مسخ کرنا ہے‘۔

احمدی نژاد کا ایک حامی اخبار تو یہ تک کہتا ہے کہ ’اکیس جون کو ایران بدر کیے جانے والے بی بی سی تہران کے نامہ نگار جون لین نے، مظاہروں کے دوران گولی لگنے سے ہلاک ہونے والی نوجوان خاتون ندا آغا سلطان کو قتل کرنے کے لیے ایک ٹھگ کو پیسے دیے تھے۔
سرکاری ٹیلی ویژن نے ایسے لوگوں کے انٹرویو نشر کیے ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ پی ٹی وی کی نشریات سے متاثر ہو کر احتجاج میں شریک ہوئے۔ ایک اور خاتون نے اپنے ایسی ہی ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ اس چینل کی نشریات نے اسے متحرک کیا کہ وہ اور ان کا بیٹا دستی بم لے کر مظاہرے میں جائیں۔ جب کہ ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ وہ چینل سے نشر ہونے والی یہ رپورٹ سن کر مظاہرے میں گئیں کے پولیس مظاہرین پر حملے کر رہی ہے جب کہ میں نے وہاں جا کر دیکھا کہ پولیس نہیں بلکہ مظاہرین لوگوں کو مار رہے ہیں۔
ان الزامات کو سن کر لندن میں کام کرنے والا چینل کا عملہ مسکراتا ہے۔ لندن میں چینل کی ایکٹنگ ڈائریکٹر راب بیننون اس پر کہتے ہیں کہ ’اگر اس سے سیاسی نوعیت کے کسی معاملے کو ہوا مل رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میں اپنا کام انہتائی موثر طور پر کر رہا ہوں‘۔ راب کی خدمات دو سال قبل اس لیے حاصل کی گئی تھیں کہ وہ چینل کے افغانی اور ایرانی عملے کو تربیتی دیں تا کہ وہ آگے چل کر چینل کا انتظام سنبھال سکیں۔
اگرچہ بی بی سی عالمی سروس کو ایمپائر یا سامراجی دور سے ہی تمام سرمایہ برطانوی دفترِ خارجہ فراہم کرتی ہے لیکن بی بی سی کو اپنے تمام آپریشن میں سیاسی آزادی اور غیر جانبداری کا اختیار ہے۔ فارسی چینل کا مقصد ایران، افغانستان اور تاجکستان کے فارسی بولنے والے لوگوں تک رسائی ہے اور اسے سالانہ پچیس ملین کا بجٹ حاصل ہے۔
چینل کی نشریات کو انٹرنیٹ پر مانیٹر کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ چینل اپنا دشوار مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اس نے انیس سو اکتالیس میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران بی بی سی فارسی سروس کے ابتدا کے مقابلے میں بہتر آغاز کیا ہے۔
جوں جوں واقعات میں تیزی آئی ہے چینل نے بھی اپنی نشریات کا وقت آٹھ گھنٹے سے بڑھا کر گیارہ گھنٹے کر دیا ہے اور اب اس کی نشریات ایران کے وقت کے مطابق ایک بجے صبح ختم ہوتی ہیں۔ چینل کی ترجمان رخسانہ شاہپور کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دنوں میں روزانہ اوسطاً دس ہزار ای میل اور ہر منٹ میں چھ ویڈیو کلپ آتے ہیں جو لوگ خود تیار کر کے بھیجتے ہیں۔ اس کے علاوہ چینل کی ویب سائٹ پر آنے والوں کی تعداد تین ملین یا تیس لاکھ روزانہ ہے۔

دوسرے نشریاتی اداروں کی طرح بی بی سی کے اس چینل نے بھی ایران میں لوگوں کی چھتوں پر سیٹلائٹ ڈشوں میں اضافہ کیا ہے اگرچہ ڈش لگانا ایران میں خلافِ قانون ہے کیونکہ آیت اللہ انہیں غیر اسلامی قرار دے چکے ہیں لیکن اس پر اطلاق سے گریز کیا گیا ہے کیونکہ غیر ملکی ٹیلی ویژنوں کی مقبولیت کی وجہ سے ایسا کرنا نہ صرف عملی طور پر دشوار ہے بلکہ سیاسی طور پر خطرناک بھی ہے۔
اس کے باوجود ایرانی حکومت نے پی ٹی وی کی نشریات کو منجمد کرنے کی نئی کوششیں کی ہیں لیکن یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں کیونکہ بی بی سی کے انجینئروں نے چینل کے سگنلز کو دو اضافی سیٹلائٹس سے بھی منسلک کر دیا ہے جس کی وجہ سے نشریات کو منجمد کرنا دشوار ہو گیا ہے۔
دوسرے غیر ملکی خبر رساں اداروں کی طرح ایک ایک کر کے بی بی سی کے تمام نامہ نگاروں کو بھی ایران سے نکالا جا چکا ہے۔ فارسی چینل کو تہران میں اپنا نامہ نگار مقرر کرنے کی اجازت نہیں اور انگریزی زبان میں بی بی سی کے ریڈیو اور ٹی وی کے نامہ نگاروں پر بھی پابندی ہے کہ وہ پی ٹی وی کے کسی پروگرام میں شریک نہیں ہو سکتے تا کہ چینل کے خلاف ایرانی حکومت کی ناراضگی کا اظہار نہ ہو سکے۔






















