بابل کے آثار کو شدید نقصان پہنچا ہے

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق پر سن دو ہزار تین کی امریکی فوج کشی کے بعد امریکی فوج اور ٹھیکداروں نے بابل کے آثار قدیمہ کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ان آثارِ قدیمہ کے کئی اہم ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا گیا اور کئی جگہوں پر کھدائی اور کٹائی کی گئی اور زمین ہموار کی گئی۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا کہ ان آثارِ قدیمہ کو نقصان پہنچنے کا سلسلہ امریکیوں کے آنے سے پہلے سے جاری تھا اور ان کے چلے جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔
امریکیوں کا کہنا ہےکہ بابل میں ان کے سامنے جو لوٹ مار ہوئی وہ ان کے وہاں موجود نہ ہونے کی صورت میں کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی یہ تازہ رپورٹ جمعرات کو پیرس میں جاری کی گئی۔
یہ رپورٹ عراقی اور بین الاقوامی ماہرین کی پانچ سال کی تحقیق کے بعد جاری کی گئی ہے۔
بغداد کے جنوب میں چار ہزار سال پرانے اس شہر میں کبھی بابل کے معلق باغات تھے جن کا شمار دنیا کے سات عجائبات میں ہوتا تھا۔
یونیسکو کی رپورٹ میں کہا گیا کہ فوجیوں اور ٹھیکداروں نے ان آثار کے قریب لمبی لمبی خندقیں کھودیں، کئی ریت کے ٹیلوں کو ہموار کیا گیا اور ان کچے راستوں کو جنہیں کبھی مقدس خیال کیا جاتا تھا بھاری گاڑیاں چلائیں گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے اہم ڈھانچہ جسے نقصان پہنچا وہ اشتر گیٹ اور مرکزی گزر گاہ ہے۔
برطانوی ماہرِ آثار قدیمہ جان کرٹس کا جنہوں نے ان آثار کا معائنہ کیا ہے کہنا تھا کہ ان آثارِ قدیمہ کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اشتر کے گیٹ پر جو اژدھوں کے عکس بنے ہوئے تھے انہیں کاٹنے کی کوششیں کی گئیں اور یہ امریکی فوج کی موجودگی میں ہوا۔
بابل کے بہت سے مشہور نوادارت انیسویں صدی میں یورپی ماہرین آثار قدیمہ لوٹ کر لے جاتے رہے اور اب یہ دنیا کہ کئی مشہور عجائب گھروں میں موجود ہیں۔
ان نوادرات کی لوٹ مار اور تجارت سن دو ہزار چار میں بھی جاری رہی جب یہ مقامات عراقی فوج کے حوالے کر دیئے گئے تھے۔
یونیسکو نے وعدہ کیا کہ بابل کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیئےجانے کے لیے کوشش کی جائے گی۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ نقصانات کے پیش نظر یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کی بحالی کے لیے کتنا پیسہ درکار ہو گا۔
قبل ازیں یونیسکو نے بابل کے آثار قدیمہ کو عالمی ورثہ قرار دینے سے انکار کر دیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر صدام حسین کے دور میں ان آثار کی مرمت کے کام کی وجہ سے اصل آثار مسخ ہو گئے ہیں۔



















