ہلمند میں برطانوی فوجی ہلاک
برطانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق کہ افغانستان میں ایک دھماکے میں ایک اور برطانوی فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔
یہ برطانوی فوجی جو رائل ریجمنٹ کی سیکنڈ بٹالین آف فوسیلائزر میں شامل تھے افغانستان کے صوبے ہلمند کے شمالی علاقے میں انیس جولائی کو ہلاک ہوئے۔
وزارتِ دفاع کے اعلان کے مطابق اس فوجی کے اہلخانہ کو اس بارے میں آگاہ کر دیاگیا ہے۔
اس حالیہ ہلاکت کے بعد افغانستان میں مرنے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد ایک سو چھیاسی ہو گئی ہے۔ صرف اس مہینے میں سترہ برطانوی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
لیفٹینٹ کرنل نک رچرڈسن نے کہا کہ وہ انتہائی افسوس کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ ایک فوجی ہلاک ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اس فوجی نے اپنی ملک کے لیے اور افغانستان کے لوگوں کی بھلائی کے لیے اپنی جان کی قربانی دی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ وہ انہیں اس ہلاکت پر شدید صدمہ ہوا ہے اور وہ اس غم میں ہلاک ہونے والے فوجی کے عزیزوں اور دوستوں کے ساتھ شامل ہیں۔
برطانوی فوج کو زیادہ تر جانی نقصان ’پینتھر کلا‘ یا چیتے کے پنجے کے نام سے شروع کی جانے والی کارروائی کے دوران ہوا ہے جو ہلمند صوبے سے طالبان کو ختم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کارروائی میں تین ہزار برطانوی فوجی شریک ہیں اور یہ گزشتہ ماہ جون کی انیس تاریخ کو شروع کی گئی تھی۔
فوج کے سربراہ جنرل سر رچرڈ دنات نے برطانوی فوج کے لیے بہتر ساز و سامان مہیا کرنے پر زور دیا تھا تاکہ سڑک کے کنارے نصب بموں کے حملوں سے فوجیوں کو بچایا جا سکے۔
وزیر اعظم گارڈن براؤن نے بارہا اصرار کیا ہے کہ فوج کے پاس خاصہ ساز وسامان موجود ہے اور ہیلی کاپٹروں کی کمی بھی نہیں ہے۔



















