افغانستان: پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک

طالبان(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنافغانتستان میں 20 اگست کو انتخابات کے پیش نظر طالبان کی تشدد کی کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ شمالی افغانستان میں طالبان کے مختلف حملوں میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

بندوق بردار اور خود کش بمباروں نے شمالی افغانستان کے گردیز شہر کے چار علاقوں کو نشانہ بنایا جس میں گورنر کے دفتر کا احاطہ بھی شامل تھا۔ حملہ کرنے والوں میں سے چار بمبار بھی ہلاک ہوگئے۔

پاکستان سرحد کے قریب جلال آباد شہر میں ایک حملے میں ایک شدت پسند ہلاک ہوگیا ہے جب کہ ایک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

افغانستان میں یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں جب بیس اگست کو انتخابات سے پہلے تشدد کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ مہینوں میں پہلے بھی طالبان اس طرح کے حملے کرچکے ہیں۔

مئی کے مہینے میں چھ افراد اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب شدت پسندوں نے شمالی افغانستان میں سرکاری عمارتوں بہ یک وقت حملے کیے تھے۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ گردیز میں شدت پسندوں نے پولیس چیف کے دفتر، پولیس سٹیشن اور خفیہ ادارے اور گورنر کمپاؤنڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکہ خيز مواد سے لیس بیلٹس پہنے پندرہ شدت پسند شہر کے مختلف حصوں میں حملہ کرنے والے تھے۔ حالانکہ حکومت نے طالبان کے اس دعوے پر کسی طرح کا بیان دینے سے انکار کردیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق کم از کم دو حملہ آوروں نے برقعے کے اندر بم چھپائے ہوئے تھے۔

ایک مقامی تاجر کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد افرا تفری مچ گئی۔

انکا کہنا تھا ’میں اپنی دکان پر تھا تبھی اچانک میں نے تیز دھماکے اور بندو‍‍ق چلنے کی آواز سنی۔ میں نے پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان گولی کا تبادلہ ہوتے دیکھا‘۔

حکومت کی جانب سے جاری کیےگئے ایک بیان میں وزارات دفاع کا کہنا ہے کہ گولہ باری میں چار شدت پسند ہلاک جب کہ دو نے اپنے آپ کو اڑا لیا ہے۔

حکام نے بی بی سی سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان کی جانب سے کیے گئے حملے میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

برقعہ
،تصویر کا کیپشنرپورٹس کے مطابق کم از کم دو حملہ آوروں نے برقعے کے اندر بم چھپائے ہوئے تھے۔

گردیز کے ایک ہسپتال میں ایک افغان ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ چار لاشیں ہسپتال لائی گئی تھیں اور چاروں افراد سکیورٹی اہلکار تھے۔

دریں اثنا جلال آباد میں دو شدت پسندوں نےایک ائر پورٹ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

نیٹو کی افواج کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک شدت پسند نے اپنے آپ کو اڑ لیا جب کہ ایک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ایک افغان اہل کار کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ایک پولیس اہل کار ہلاک ہوا ہے۔ تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اس سے پہلے ملک کے جنوبی خطے کے ہلمند علاقے میں ایک دھماکے میں ایک برطانوی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔

اس مہینے افغانستان میں تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والے وہ اٹھارہویں فوجی تھے۔

پیر کو نیٹو کے سربراہ جاپ دی ہوپ نے وارننگ دی تھی کہ جنگ کے میدان سے فوج ہٹانے کے خطرناک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور اس سے افغانستان، پاکستان، وسطی ایشیا میں شدت پسندی بڑھے گی۔

انکا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں نیٹو کے ممبران کی حفاظت کے لیے لڑائی ضروری ہے۔