افغانستان: طالبان سے معاہدہ

افغانستان میں اگلے ماہ ہونے والے انتخابات سے قبل، حکام کا کہنا ہے کہ، حکومت صوبے بغدیس میں طالبان سے عارضی صلح پر رضامند ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق طالبان نے کہا ہے کہ وہ ووٹنگ کے مراکز پر حملہ نہیں کریں گے اور انہوں نے اہم علاقوں کا کنٹرول بھی سرکاری سکیورٹی فورسز کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ طالبان کی طرف سے اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
حکومت نے توقع ظاہر کی ہے کہ وہ تمام صوبوں میں اس طرح کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ افغانستان میں یہ پیشرفت اس وقت ہوئی ہے جب برطانیہ بھی طالبان کے اعتدال پسند حلقوں سے رابطے کے حق میں بات کر رہا ہے۔
برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے حکومتی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان نیٹو کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کیا۔
افغانستان میں حالیہ مہینوں میں تشدد کی لہر میں تبدیلی آئی ہے لیکن بغدیس میں مقابلتاً کم تشدد ہوا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری نے بتایا کہ ماضی میں شدت پسند بغدیس سے غور اور ہرات میں حملے کرتے رہے ہیں۔
افغانستان میں صدارتی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب بغدیس میں ہونے والے معاہدے کے تحت طالبان مرکزی شاہراہ کی تعمیر نو میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔
افغانستان میں حکومت اس سے پہلے بھی طالبان سے رابطے کی کوشش کر چکی ہے۔ اکتوبر سن دوہزار آٹھ میں صدر حامد کرزئی کے بھائی نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے امن مذاکرات کے سلسلے کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب میں طالبان سے ملاقات کی تھی۔

















