ایک فلیٹ، دو بندے اور تیرہ سانپ

بیروت کے سانب
،تصویر کا کیپشنان سانپوں کو تفریحی کے لیے گھر سے باہر بھی لے جایا جاتا ہے۔
    • مصنف, شاہ زیب جیلانی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بیروت

بیروت شہر کے مشرق میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد سا مکان ہے۔ مکان کیا ہے بس یوں سمجھیں سانپوں کا آشرم ہے۔ دو کمروں کے اس چھوٹے سے فلیٹ میں داخل ہوں تو ایک عجیب سی مہک آپ کا خیر مقدم کرتی ہیں۔ دیواروں پر چاروں طرف اوپر سے نیچے تک سانپوں اور ہندو دیوی دیوتاؤں کی تصاویر لگی ہوئی نظر آتی ہیں۔

اگر آپ کو بچپن سے سانپوں سے نفرت کرنا سکھایا گیا ہو تو جلد ہی اس جگہ سے کراہت سی آنے لگتی ہے۔

لیکن پینتیس سالہ لُبنانی شہری پیئر رزک اور اُن کی سری لنکن اہلیہ سپناکے لئے یہ جگہ اُن کا گھر ہے جہاں وہ دنیا بھر سے لائے گئے اپنے تیرہ سانپوں کے ساتھرہتے ہیں۔ جگہ اتنی چھوٹی ہے کہ ذرا غور سے نظر دوڑائیں تو آپ کو فلیٹ کے ہر کونے کھدرے میں سانپ بیٹھا نظر آئے گا۔ کپڑوں کی الماری کے خانے میں، برتنوں کے نیچے شو کیس میں، حتیٰ کے باتھ روم میں بھی، یہاں سانپ اُن کے اپنے بچوں کی طرح رہتے ہیں۔

مختلف نسلوں کے ان چھوٹے بڑے سانپوں کا تعلق لبنان، یورپ، امریکہ، برازیل کے ایمزان جنگلات، بھارت اور تھائی لینڈ سے ہے۔

پیئر رزک کے مطابق اُن کے سانپ زہریلے نہیں۔ البتہ بڑے اژدھے نُما پائیتھن چاہیں تو اچھے بھلے کو زور سے جکڑ کر جان سے مارسکتے ہیں۔ اسی لئے وہ اُنہیں چھوٹے بچوں کے قریب لے جانے سے گریز کرتے ہیں۔

پیئر رزک کا کہنا ہے:’سانپ ایک ذہین مخلوق ہے۔ جب ہم اِن سے پیار کرتے ہیں تو یہ اُسے محسوس کرسکتے ہیں۔ اگر آپ سانپ کو نقصان نہ پہنچائیں، تو وہ بھی آپ کو تنگ نہیں کرتے۔‘

بیروت کے سانپ
،تصویر کا کیپشنسانپ دنیا کے ہر خطے سے جمع کیئے گئے ہیں

لیکن کہا جاتا ہے کہ سانپ وہ ہوتا ہے جس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور جو وقت پڑنے پر اپنے محسن کو بھی ڈسنے سے باز نہیں آتا؟

پیئر رزک اس تاثر کی نفی تو نہیں کرتے لیکن کہتے ہیں: ’سانپ آخرکار ہے تو جانور ہی۔ اس لئے آپ اس پر سو فیصد تو اعتبار نہیں کرسکتے۔ لیکن کیا آپ لوگوں پر مکمل یقین کر سکتے ہیں؟ کبھی کبھی لوگ آپ کے لئے سانپ سے زیادہ خطرناک اور زہریلے ثابت ہو جاتے ہیں۔ وہ آپ کو ایسے ڈستے ہیں کہ اُس کا درد زندگی بھر نہیں جاتا۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں انسانوں سے زیادہ سانپ پر اعتماد کرنا پسند کرتا ہوں۔‘

پیئر رزک کے مطابق، وہ اور ان کی اہلیہ سپنا دن میں تین سے چار گھنٹے ان سانپوں کی خدمت میں گزارتے ہیں۔ اِنہیں کھِلاتے پلاتے ہیں، نِہلاتے ہیں اور روزانہ ایک گھنٹہ گُھمانے کے لئے باہر نکالتے ہیں۔ کھانے میں بڑے پائیتھن سانپ ہفتے میں ایک بار پوری مرغی کھاتے ہیں جبکہ چھوٹے سانپوں کو ہر دو یا تین دن میں اُن کے فریزر سے چوہے یا چوزے نکال کر پیش کئے جاتے ہیں۔

پیئر رزک نے بتایا کہ سانپوں کی دیکھ بھال پر اُن کا سالانہ کوئی سات ہزار ڈالر خرچہ آجاتا ہے۔ ہر سال گرمی کی چھٹیوں کے موسم میں جب بیروت میں یورپ اور عرب دنیا سے لوگ گھومنے آتے ہیں، تو وہ اپنے سانپوں کو قریبی پہاڑوں کے تفریحی مقامات پر لے جاتے ہیں جہاں سیاح سانپوں کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں اور پیئر رزک کی کچھ کمائی ہوجاتی ہے جس سے، بقول ان کے، سانپوں کی نگہداشت کے اخراجات اٹھانے میں مدد مل جاتی ہے۔