بنیامن کیس:ایم آئی فائیو کی دستاویز جاری

بی بی سی نے ایک ٹیلیگرام کی نقل حاصل کی ہے جو مشتبہ شدت پسند بنیامن کے بارے میں ایم آئی فائیو کے ہیڈ کوارٹر سے پاکستان بھیجا گیا تھا اور اس میں بنیامن سے پوچھے جانے والے سوالات کی تفصیلات ہیں۔
پینتیس صفحات پر مشتمل پوری دستاویز کو قابلِ اشاعت بنایا گیا ہے لیکن وہ سوالات شائع کیے گئے ہیں جو بنیامن محمد سے پوچھے جانے کی تجویز دی گئی تھی۔
ان دستاویز پر مئی 2002 کی تاریخ ہے جس کے دو دن بعد ملزم سے پوچھ گچھ ہوئی تھی اور یہ پوچھ گچھ ایک افسر نے کی تھی جسے قانونی زبان میں ’وٹنس بی‘ کہا جاتا ہے۔
محمد بنیامن ایتھیوپیا کے شہری ہیں اور انہیں کراچی میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جعلی پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان سے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔
امریکی افسران نے پہلے ان پر دہشت گرد کیمپ میں ٹریننگ حاصل کرنے کا الزام لگایا تھا امریکی حکام کا الزام تھا کہ اس کے بعد بنیامن امریکہ جا کر دھماکہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔تاہم بعد میں بنیامن کے خلاف الزامات واپس لے لیے گئے اور اس سال کے اوائل میں وہ برطانیہ واپس آگئے۔
محمد بنیامن کا دعوٰی ہے کہ برطانوی حکام نے ان کی قید کے دوران پاکستانی حکام کے ساتھ ساز باز کی اور ان کے ساتھ بد سلوکی کی گئی جس کے بعد انہیں مراکش میں بھی بری طرح اذیتیں دی گئیں اور اس کے بعد افغانستان اور گوانتا نامو بے میں قید رکھا گیا۔
برطانوی حکومت بنیامن کے ساتھ مبینہ بدسلوکی میں کسی بھی طرح سے شامل ہونے کی تردید کرتی ہے۔
ایم آئی فائیو نے امریکہ سے اجازت ملنے کے بعد بنیامن محمد سے پوچھ تاچھ کے لیے ’وٹنیس بی‘ کوپاکستان بھیجا۔ گزشتہ سال ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں ’وٹنیس بی‘ نےاس بات کی تردید کی کہ انہوں نے بنیامن پر کسی طرح کا دباؤ ڈالا تھا ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل انٹیلی جینس انیڈ سکیورٹی کمیٹی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا تھا کہ بنیامن کا انٹرویو ایک تجربے کار افسر نے تمام رہنما اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا تھا۔
تاہم کمیٹی ایک مرتبھ پھر اس کیس کا جائزہ لے رہی ہے اور میٹرو پولیٹن پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کیا برطانوی افسران کے خلاف کیس درج کیا جائے۔



















