لاکربی کے ملزم کی رہائی کا امکان

پین ایم کی فلائٹ ایک سو تین سکاٹ لینڈ کے قصبے لاکربی کے اوپر فضا میں دھماکے سے پھٹ گئی
،تصویر کا کیپشنپین ایم کی فلائٹ ایک سو تین سکاٹ لینڈ کے قصبے لاکربی کے اوپر فضا میں دھماکے سے پھٹ گئی

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی ایک جیل میں قید لاکربی بم کیس کے ملزم المگراہی کو آئندہ ہفتے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

عبدل باسط علی محمد المگراہی مثانے کے کینسر کے مریض ہیں۔ انہیں نومبر دو ہزار تین کو بین ایم کے مسافر جہاز کو سکاٹ لینڈ کے قصبے لاکربی کے اوپر دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے جرم میں ستائیس برس کی قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس واقع میں دو سو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اگرچہ سکاٹ لینڈ کی حکومت کا موقف ہے کہ اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے، تاہم المگراہی کو آئندہ ہفتے کے اختتام پر واپس لیبیا بھیجنے کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔

لاکربی کے واقعے میں ہلاک ہونے والے امریکی مسافروں کے رشتہ داروں نے ان اطلاعات پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

لیبیا کے خفیہ ادارے کے ایجنٹ المگراہی کو سن دو ہزار ایک میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ انہیں کم از کم بیس برس کی سزا کاٹنی ہوگی۔

تاہم قانون میں تبدیلی کے باعث اکیاون سالہ مگراہی کو سن دو ہزار تین میں ایک مرتبہ سکاٹ لینڈ کی عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑا تاکہ ان کی سزا کی معیاد از سر نو طے کی جا سکے۔

دسمبر انیس سو اٹھاسی میں پین ایم کی فلائٹ ایک سو تین سکاٹ لینڈ کے قصبے لاکربی کے اوپر فضا میں دھماکے سے پھٹ گئی، اور اس میں دو سو ستر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ہالینڈ میں سکاٹ لینڈ کے قوانین کے تحت المگراہی پر چوراسی دن تک مقدمہ چلایا گیا اور انہیں قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔

مارچ دو ہزار دو میں اس سزا کے خلاف ان کی اپیل مسترد ہونے کے بعد المگراہی کو گلاسگو کی بارلِنی جیل کے ایک خصوصی سیل میں رکھا گیا۔

المگراہی نے شروع سے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں۔