افغانستان: انتخابات کا سب سے اہم پہلو

حامد کرزئی
،تصویر کا کیپشنماہرین کے بقول ان تمام تر خامیوں کے باوجود کسی کے پاس حامد کرزئی کا متبادل نہیں ہے۔

امریکہ کے ہاتھوں طالبان کی حکومت کی معزولی کے بعد بیس اگست کو افغانستان دوسری مرتبہ انتخابی عمل سے گزرنے جا رہا ہے۔ اگرچہ افغانستان کے عوام آئندہ پانچ برسوں کے لیے اپنے نئے صدر کے علاوہ ملک کے چونتیس صوبوں میں ولایتی شوری (صوبائی کونسل) کے لیے نمائندوں کا انتخاب کریں گے لیکن امریکہ سمیت پوری دنیا کی نظریں اصل میں نئے صدر کے انتخاب پر ہی مرکوز ہیں۔

اس وقت صدارت کے لیے دو خواتین سمیت سینتیس امیدوار انتخابی میدان میں ہیں مگر افغانستان کا میڈیا، سفارتی حلقوں، عوام اور ماہرین کی نظر میں اصل مقابلہ موجودہ صدر حامد کرزئی، سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر اشرف غنی کے درمیان ہو سکتا ہے۔

طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سات سال تک امریکہ کے زیر سایہ افغانستان پر حکمرانی کرنے والے حامد کرزئی سے بظاہر کوئی بھی خوش نہیں ہے۔ ان پر نہ صرف افغان عوام بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے طرح طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ان میں کرپشن، ایک کمزور منتظم اور ان کے بھائی کا منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونا جیسے الزامات شامل ہیں۔ لیکن ماہرین کے بقول ان تمام تر خامیوں کے باوجود کسی کے پاس حامد کرزئی کا متبادل نہیں ہے۔

اس کی کئی وجوہات بتائی جا تی ہیں۔ پہلی تو یہ ہے کہ ان سینتیں صدارتی امیدواروں میں سے ایسی کوئی شخصیت موجود نہیں ہے جو کثیرالنسلی افغانستان کے ہر رنگ و نسل کے لوگوں کوبطورِ ایک قومی رہنما کے قبول ہو۔ حامد کرزئی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی دورِ حکومت میں کوشش کی ہے کہ وہ کوئی ایسااقدام نہ کرے کہ انہیں ایک پشتون متعصب حکمران سمجھا جائے۔ ان کے اس انداز حکمرانی پر انہیں بعض پشتون حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ دراصل شمالی اتحاد کے ہاتھوں میں یر غمال بنے ہوئے ہیں۔

سب کو قابلِ قبول ہونے کی دوسری وجہ افغانستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اتحادی افواج کے خلاف اس وقت مزاحمت پشتون علاقوں بالخصوص ملک کے جنوب اور مشرق میں ہو رہی ہے لہذا شدت پسندوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقومی برادری کو ایک پشتون صدر کی ہی ضرورت ہے جب کہ صدارتی دوڑ میں شامل امیدواروں میں ایسا کوئی مضبوط امیداوار موجود نہیں ہے جو اس ضرورت کو پورا کر سکے۔

ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ
،تصویر کا کیپشنشمالی اتحاد کی وجہ سے طالبان ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو اور وہ طالبان کو اپنا ازلی دشمن سمجھتے ہیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے طالبان وہ قوت ہیں جسے وہ فوجی طاقت کے ذریعے ختم کرنے میں مصروف ہیں لیکن اس بار ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ان کا وزن اس امیدوار کے پلڑے میں ہوگا جو معتدل طالبان سے بات چیت کرنے کے حق میں ہو اور حامد کرزئی نے مستقبل کے صدارتی انتخابات کو نظر میں رکھتے ہوئے تقریباً ایک سال پہلے ہی طالبان سے پسِ پردہ مذاکرات شروع کردیے ہیں۔

جب کہ اس کے مقابلےمیں صدارتی دوڑ میں شامل ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا تعلق شمالی اتحاد سے ہونے کی وجہ سے طالبان انہیں اور وہ طالبان کو اپنا ازلی دشمن سمجھتے ہیں۔ایک اور مضبوط امیدوار ڈاکٹر اشرف غنی اگرچہ پشتون ہیں مگر اپنی زندگی کا بڑا حصہ ملک سے باہر گزارنے کی وجہ سے انہیں تعلیم یافتہ متوسط طبقے کی حمایت تو حاصل ہے لیکن دیہاتوں میں رہنے والوں اور طالبان شدت پسندوں کے لیے وہ ایک اجنبی چہرہ ہی ہیں۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ میدان حامد کرزئی کے لیے بالکل صاف ہے۔ اب بھی انہیں اپنی ماضی کی کمزور کارکردگی کی وجہ سے کئی چیلنجوں کا سامنا ہے اور اس بات کا احساس انہیں خود بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے مخالف امیدواروں عبداللہ عبداللہ اور ڈاکٹر اشرف غنی کے ٹیلی ویژن پر مباحثے کے چیلنج کو کئی بار مسترد کرچکے ہیں۔ اس پورے انتخابی مہم میں انہوں نے اب تک صرف بی بی سی پشتو سروس کے سامعین کے سوالوں کے جوابات دینے کی حامی بھری ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے صدر منتخب ہونے کے لیے ایک اور ایسا اقدام کیا ہے جس نے زیادہ تر افغانوں کو ناراض اور بین الاقوامی برداری کو ملک کے مستبقل کی پائیدار سکیورٹی کے حوالے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ڈاکٹر اشرف غنی
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر اشرف غنی اگرچہ پشتون ہیں لیکن انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ملک سے باہر گزارا ہے۔

ان میں ہرات کے گورنر اسماعیل خان، ننگر کے گورنر گل آغا شیرزئی، حاجی محقق، عبدالکریم خلیلی، جنرل فہیم، جنرل دوستم، کابل کے گورنر حاجی دین محمد اور کئی اور شخصیات شامل ہیں۔انکی حمایت سے تو حامد کرزئی کے لیے انتخابات جیتنا قدرے آسان ہوجائے گا مگر خدشہ یہ ہے کہ ملک کی باگ دوڑ جنگی کمانڈروں کے ہاتھ میں آجائےگی جس کی وجہ سے صدر حامد کرزئی اپنی طرز حکمرانی میں کوئی نئی تبدیلی لائے بغیر ماضی ہی کی طرح ہی حکومت کریں گے۔