لاکربی کے ملزم کی رہائی کی مخالفت

سات امریکی سینیٹرز نے سکاٹ لینڈ کے لاکربی بم کیس کے ملزم کو رہا کرنے کا فیصلے کی مخالفت کی ہے اور سکاٹ لینڈ کے جسٹس سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم عبدالباسط علی المگراہی کو سکاٹ لینڈ کی جیل میں ہی قید رکھا جائے۔
امریکی سینیٹرز جن میں ایڈورڈ کینیڈی اور جان کیری بھی شامل ہیں نے لاکربی کے ملزم المگراہی کی جلد رہائی کے فیصلے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
سکاٹ لینڈ کی حکومت کا مؤقف ہے کہ المگراہی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کرنے یا لیبیا منتقل کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔
واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ المگراہی کی رہائی کی خبر پر امریکیوں نے غم و غصے کا اظہار کیا ہے کیونکہ انیس سو اٹھاسی میں ہونے والے لاکربی کے واقعے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر امریکی شہری تھے۔
سینیٹرز کی طرف سے سکاٹ لینڈ کے جسٹس سیکرٹری کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’لاکربی کا واقعہ عالمی دہشت گردی کا خوفناک واقعہ تھا اور گیارہ ستمبر دو ہزار ایک سے قبل کسی واقعے میں امریکی شہریوں کا اتنا جانی نقصان نہیں ہوا‘۔
خط میں مزید کہا گیا ہے ’ہم جانتے ہیں کہ سکاٹ لینڈ کی حکومت انصاف کا ساتھ دینے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری اور امریکہ کے مؤقف کی تائید کرتی ہے۔ اس لیے ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ المگراہی کو اپنی باقی سزا سکاٹ لینڈ کے جیل میں ہی کاٹنے دی جائے۔‘
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی سکاٹ لینڈ پر زور دیا تھا کہ المگراہی کو رہا نہ کیا جائے۔
عبدالباسط علی محمد المگراہی مثانے کے کینسر کے مریض ہیں۔ انہیں نومبر دو ہزار تین میں پین ایم کے مسافر جہاز کو سکاٹ لینڈ کے قصبے لاکربی کے اوپر دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے جرم میں ستائیس برس کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس واقع میں دو سو ستر افراد ہلاک ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
..



















