طالبان کے خلاف فوری فتح ناممکن: اوباما

- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
امریکی صدر براک اوباما نے اپنے ہم وطنوں سے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کے خلاف فوری فتح کی امید نہ رکھیں۔
امریکی صدر نے افغانستان میں صدراتی انتخابات سے صرف دو روز پہلے کہا ہے کہ افغانستان میں فوری فتح کی توقع کرنا نامناسب ہے۔ انہوں نے کہا افغانستان جنگ مجبوری کی جنگ ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگر ایک بار افغانستان کو چھوڑ دیا گیا تو القاعدہ پہلے سے بھی زیادہ محفوظ پناہ گاہوں سے امریکہ کے خلاف حملوں کی منصوبہ کرے گی۔
افغانستان کے انتخابات سے صرف چند روز قبل امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس میں سابق فوجیوں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا ’ہم افغانستان کی جنگ میں اپنی مرضی یا خوشی سے نہیں گئے بلکہ یہ ایک ضرورت ہے، ایک ایسی ضرورت جو امریکی عوام کی سلامتی کے لئے بہت ضروری ہے۔‘
براک اوباما نے خبردار کیا کہ دہشتگردی نہ تو ایک دن میں پیدا ہوئی ہے اور نہ ہی راتوں رات ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے گیارہ ستمبر کے حملے کئے تھے وہ امریکہ پر حملے کرنے کی دوبارہ حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر حالات کو چھوڑ دیا گیا تو القاعدہ کے پاس پہلے سے بھی بڑھ کر محفوظ پناہ گاہیں ہوں گی اور وہ پہلے سے بھی زیادہ خطرناک حملے کرنے کی طاقت حاصل کر لے گی۔
عراق سے امریکی فوجی طے شدہ پروگرام کے مطابق سن دوہزار گیارہ کے آخر میں تک نکل رہے ہیں اور صدر اوباما نے سابق فوجیوں کو یقین دلایا کہ مستقبل میں امریکی فوجیوں کو صرف ان جنگوں کے لئے بھیجا جائے گا جو انتہائی ضروری ہوں گی۔
اوباما نے سابق امریکی صدر جارج بش کا نام لیے بغیر ان کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر وہ (اوباما) فوجیوں کو جنگ پر بھیجیں گے تو ٹھوس خفیہ معلومات اور مضبوط حکمت عملی کی بنیاد پر بھیجیں گے اور جنگ کے نہ صرف مقاصد واضع ہوں گے بلکہ فوج کو وہ تمام ہتھیار اور سازوسامان بھی فراہم کیا جائے گا جو کام کی تکمیل کے لئے ضروری ہوگا۔


















