افغانستان: الیکشن سکیورٹی نقشہ

افغانستان کے صدارتی انتخاب سے قبل بی بی سی افغانی سروس نے ایک سروے کیا ہے جس کے مطابق افغانستان کے تیس فیصد علاقے پر افغان حکومت کا کنٹرول یا تو بالکل نہیں ہے یا پھر حکومت کو جزوی کنٹرول حاصل ہے۔
یہ سروے بی بی سی کے نامہ نگاروں کے اندازے، مقامی لوگوں اور صوبائی بلدیاتی اہلکاروں سے انٹرویو پر مشتمل ہے۔ نامہ نگاروں نے افغانستان کے 34 صوبوں میں پچھلے ایک ہفتے کے دوران حالات کا جائزہ لیا۔
افغانستان میں چونتیس صوبے اور تین سو اڑسٹھ اضلاع ہیں۔اگرچہ افغان حکومت اور سکیورٹی افواج نے صدارتی انتخاب کے موقع پر ضروری حفاظتی انتظامات کیے ہیں تاہم یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ بہت سے اضلاع میں شدت پسند پولنگ مراکز کو نشانہ بنا سکتے ہیں اور ان کارروائیوں کی وجہ سے ووٹنگ ممکن نہ ہو سکے گی۔
افغان حکام کا کہنا ہے کہ وہ سات ہزار میں سے چھ ہزار پانچ سو پولنگ مراکز کو سکیورٹی فراہم کرنے کے قابل ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف نو یا دس اضلاع ایسے ہیں جہاں ان کی عملداری نہیں اور وہ انتخابات سے قبل وہاں بھی اپنی رٹ قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ تاہم بہت سے افراد کو یہ خدشہ ہے کہ ایسے اضلاع کی تعداد حکومتی اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔
سروے کے خاکے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ 34 میں سے صرف سات صوبے ایسے ہیں جن پر مکمل حکومتی عملداری قائم ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق 368 اضلاع میں سے صرف نو ضلعے ایسے ہیں جہاں حکومت کی عملداری نہیں ہے اور ان اضلاع کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہاں حکومت نہ تو کسی قسم کی سکیورٹی مہیا کرتی ہے اور نہ ہی کوئی سہولیات۔
ان میں سے زیادہ تر اضلاع ملک کے اس جنوبی حصے میں واقع ہیں جہاں طالبان سرگرم ہیں۔
نامہ نگاروں کے مطابق افغانستان میں 125 اضلاع (34 فیصد) ایسے ہیں جہاں حکومتی عملداری مرکزی قصبوں تک قائم ہے اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں حکومتی رٹ قائم نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان ہمایون حامد زادے نے بی بی سی کے اس سروے کو رد کر دیا ہے۔ تاہم افغان وزارت دفاع نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ ملک کے جنوب میں نو اضلاع میں حکومتی عملداری نہیں ہے۔





















