افغانستان: امریکی فوج کی تعداد کافی نہیں

افغانستان میں تعینات امریکی فوجی کمانڈروں نے پاکستان اور افغانستان کے لیے صدر باراک اوباما کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک سے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی فوجیوں کی تعداد کافی نہیں ہے۔
نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق رچرڈ ہالبروک کے حالیہ افغانستان دورے کے دوران امریکی فوجی کمانڈروں نے جنوبی افغانستان میں مشکلات کا ذکر کیا جہاں فوجیوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے باوجود شہروں اور دیہاتوں میں طالبان کی کارروائیاں جاری ہیں اور مشرقی افغانستان میں حقانی گروپ امریکی فوجیوں پر حملے کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔
افغانستان میں مزید امریکی فوجیوں کی ضرورت اوباما انتظامیہ کے لیے ایک مسئلہ بن سکتی ہے کیونکہ آٹھ سال سے جاری اس جنگ میں امریکہ میں سوالات اٹھائے جانا شروع ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سے افغان حکومت پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔
افغانستان کی صورت حال کے بارے میں یہ تازہ جائزہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب افغانستان میں نئے امریکی کمانڈر جنرل سٹینلے میکرسٹل پوری فوجی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں۔ امریکی جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ افغانستان میں صورت حال بگڑ رہی ہے باوجود اس کے کہ حال ہی میں وہاں مزید سترہ ہزار امریکی فوجیوں کو بھیجا گیا ہے جب کہ صدارتی انتخابات کی وجہ سے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔

ایڈمرل مولن نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این پر اسٹیٹ آف دی یونین پروگرام میں گزشتہ اتوار کو افغانستان کی صورت حال کو سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بگڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان نے اپنی حکمت عملی کو بہتر بنایا ہے اور ان کی کارروائیوں میں زیادہ مہارت آئی ہے۔
ایڈملر مولن نے کہا کہ جنرل میکرسٹل اب صورت حال کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں اور انہوں نے ابھی مزید فوجی بھیجنے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔
افغانستان میں امریکی فوجی کمانڈروں نے اس ہفتے رچرڈ ہالبروک سے ملاقاتیں کئیں۔ گزشتہ دو دنوں میں رچرڈ ہالبروک نے افغانستان کے چاروں حصوں کے کمانڈروں سے ملاقاتیں کئیں اور ان سب سے کم و بیش ایک ہی پیغام ملا ہے کہ ملک کے جنوبی حصوں میں امریکی فوجیوں میں اضافہ اور نیٹو ملکوں کی طرف سے تھوڑی تھوڑی اضافی کمک سے کچھ بہتری تو آئی ہے پھر بھی فوجیوں کی کل تعداد کمانڈروں کو درکار تعداد سے کہیں کم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان میں اس وقت امریکی میرینز اور فوجیوں کی کل تعداد ستاون ہزار ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی کمانڈروں نے رچرڈ ہالبروک سے مزید فوجیوں کی تعداد کے بارے میں بھی کچھ کہا ہے کہ نہیں۔
مشرقی افغانستان میں زیادہ گڑ بڑ ہے۔ اتوار کو رچرڈ ہالبروک بگرام کے اڈے پر گئے جہاں میجر جرنل کرٹس اسکپروتی نے بتایا کہ حقانی گروپ اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے۔ امریکی کمانڈروں کا خیال ہے کہ جلال الدین حقانی اور ان کے بیٹے سراج الدین حقانی کا گروہ پاکستان میں موجود اپنے ٹھکانوں کو امریکی اور افغان فوجوں پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

افغانستان میں امریکی فوج کے لیے مشکلات میں اضافہ ہوا ہے لیکن امریکی کمانڈر کا خیال ہے کہ اس کی وجہ پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف پاکستانی فوج کی محدود کارروائی ہے۔ میجر جنرل اسکپروتی نے کہا کہ پاکستان اور امریکی فوج کے درمیان تعاون میں بہتری آئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ شدت پسندوں پر دباؤ رکھے اور خاص طور پر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد۔
میجر جنرل اسکپروتی کی اس بات سے اوباما انتظامیہ کی طرف سے ظاہر کئے جانے والے اس خدشے کی بازگشت سنائی دیتی ہے کہ پاکستان بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد اپنی توجہ قبائلی علاقوں سے ہٹا لے گا جہاں طالبان اور القاعدہ کے ارکان سرگرم ہیں۔
ایک اعلی سرکاری اہلکار نے کہا کہ بیت اللہ محسود کے مرنے سے کھیل ختم ہو گیا جیسے ’گیم اوور، نیکسٹ لیول۔‘
وائٹ ہاؤس میں امریکی عوام میں افغان جنگ کے لئے کم ہوتی ہوئی حمایت کی وجہ سے تشویش پائی جاتی ہے۔
تازہ عوامی جائزوں کے بعد ایڈمرل مولن اور ایک ریٹائرڈ جنرل کارل ڈبلیو ایکنبری مختلف ٹی وی چینلوں کے ’ٹاک شوز‘ میں گئے تاکہ عوام کو افغان مشن کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کر سکیں۔
ایڈمرل مولن نے این بی سی کے ’میٹ دی پریس‘ پروگرام میں کہا کہ ’مجھےاس بات کا پوری طرح اندازہ ہے کہ اس جنگ کے لیے یا کسی بھی جنگ کے لیے عوامی حمایت کتنی ضروری ہوتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں تازہ عوامی جائزہ یقیناً باعث تشویش ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اگلے بارہ سے اٹھارہ مہینے میں اس صورت حال کو بہتر بنانا ہے۔
رچرڈ ہالبروک نے قندھار، ہرات، مزار شریف اور بگرام کے فوجی اڈوں کا گزشتہ ہفتے اور اتوار کو دورہ کیا۔
مزار شریف میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان کے بارے میں نئی حکمت عملی میں ان طالبان سے بات کرنا شامل ہو گا جو اپنے ہتھیار رکھنے کے لیے تیار ہوں گے۔
ہالبروک نے کہا کہ زیادہ تر طالبان اس لیے لڑ رہے ہیں کیونکہ یا تو انہیں گمراہ کیا گیا ہے یا پھر ان کے پاس کوئی ’جاب‘ نہیں ہے۔





















