ایران: اصلاح پسند رہنماؤں پر مقدمہ شروع

ایران میں جون کے صدارتی انتخابات سے پیدا ہونے والے تنازع کے سلسلے میں حزب اختلاف کے کئی سینئر رہنماؤں کے خلاف مقدمہ شروع ہو گیا ہے۔
ان لوگوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بیرونی طاقتوں کے ساتھ مل کر بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی اور ملزمان میں انیس سو ستانوے سے دو ہزار تک رہنے والی خاتمی حکومت کے ایک سابق وزیر بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے دو ممتاز ماہر معاشیات سعید لیلاز اور کیعان تاج بخش بھی ملزمان میں شامل ہیں۔
ایران میں اس نوع کا یہ چوتھا مقدمہ ہے جو قدامت پسند صدر احمدی نژاد کے دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے کے بعد انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے نتیجے میں شروع ہونے والے احتجاج اور ہنگاموں کے بعد قائم کیے گئے ہیں۔
بی بی سی تہران کے نامہ نگار جون لینی جنہیں انتخابات کے بعد ایران سے نکال دیا گیا تھا کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ بظاہر صدر محمد خاتمی کے دور کی مذمت اور حزبِ اختلاف کو ڈرا کر خاموش کرا دینے کی کوشش دکھائی دیتا ہے۔
بارہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے مطابق صدر احمدی نژاد کو تریسٹھ فیصد ووٹ ملے تھے اور ان کے بڑے حریف امیدوار میر حسین موسوی نے بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے ان نتائج کو مسترد کر دیا تھا۔
ان انتخابات کے نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی تہران اور ایران کے دوسرے کچھ شہروں میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے جن کے دوران کم از کم تیس افراد ہلاک ہوئے۔ حکومت کی جانب سے غیر ملکی نامہ نگاروں پر پابندی لگا دی گئی کہ وہ ان مظاہروں میں جا کر رپورٹنگ نہیں کر سکتے۔
ایران میں کٹر قدامت پرستوں مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ صدر احمدی نژاد کے خلاف انتحاب لڑنے والے دو بڑے امید واروں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کو بھی گرفتار کیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

انتخابات کے حوالے سے جو مقدمات چلائے جا رہے ہیں ان کی سماعت کی رپورٹنگ کی اجازت صرف مقامی ذرائع ابلاغ کو دی گئی ہے اور حزبِ اختلاف نے اس پابندی کی مذمت کرتے ہوئے مقدمات کو محض نمائشی کارروائی قرار دیا ہے۔
انتخابات کے بعد احتجاجی مظاہروں کے دوران حکام نے سینکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا تھا اور اسی ماہ کے پہلے ہفتے میں منگل کو ان میں سے ایک سو چالیس افراد کو جیلوں سے رہا بھی کیا جا چکا ہے۔






















