’مزید فوج بھیج سکتے ہیں‘

برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے کہا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت کے لیے مزید برطانوی فوجی افغانستان بھیجے جا سکتے ہیں۔
ایک غیر اعلانیہ دورے پر کابل پہنچنے کے بعد انہوں نے کہا کہ برطانوی فوجیوں کی حفاظت کے لیے بھی مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ اس برس وہ چوتھی بار افغانستان گئے ہیں۔
ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افغانستان میں صدارتی انتخابات کے نتائج کا بتدریج اعلان ہو رہا ہے جن کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی کو اپنے حریفوں پر روز بروز سبقت حاصل ہو رہی ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ وہ افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تربیت کی رفتار تیز کرنا چاہتے ہیں اور اِس کے لیے مزید برطانوی فوج کی مدد درکار ہوگی۔
گورڈن براؤن نے وعدہ کیا کہ سڑک کے کنارے نصب بموں سے برطانوی فوجیوں کو بچانے کے لیے بھی وہ مزید اقدامات کریں گے۔ جنوبی افغانستان کے صوبہ ہلمند میں برطانوی فوجیوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ان خیال میں اگلے ایک برس میں مزید پچاس ہزار افعان فوجیوں کو تربیت دے جاسکے گی۔
انہوں ن کہا کہ ’اس کا مطلب یہ ہوگا کہ افغان زیادہ سے زیادہ معاملات اپنے ہاتھ میں لے سکیں گے۔ اور اس میں انہیں برطانوی فوج کی معاونت حاصل ہوگی ۔۔۔ اور آپ دیکھیں گے کہ اپنے کے لیے وہ آلات لائے جا رہے ہیں جو ہمارے فوجیوں کو بہتر تحفظ فراہم کریں گے۔‘
اپنے مختصر دورے کے دوران برطانوی وزیر اعظم نے ٹیلی فون پر صدر حامد کرزئی اور ان کے قریبی حریف عبداللہ عبداللہ سے بھی بات کی۔
افغانستان میں بیس اگست کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ایک تہائی ووٹوں کی گنتی مکمل ہوچکی ہے اور اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق صدر حامد کرزئی کو اپنے حریفوں پر واضح برتری حاصل ہوگئی ہے۔ سنیچر کو اعلان کردہ نتائج کے مطابق صدر حامد کرزئی کو چھیالیس فی صد ووٹ ملے ہیں جبکہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے اکتیس فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ایک افسر داؤد علی نجفی نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حامد کرزئی کو نو لاکھ چالیس ہزار پانچ سو اٹھاون ووٹ ملے ہیں اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے چھ لاکھ اڑتیس ہزار نو سو چوبیس ووٹ حاصل کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر کرزئی پچاس فی صد ووٹوں کے اس سنگ میل کے قریب تر ہو رہے ہیں جس کے بعد دوسرے مرحلے کی نوبت نہیں آئے گی۔ تاہم ان کے حریف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے ایک بار پھر ریاستی سرپرستی میں بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کے الزام کو دہرایا۔
ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ انہیں بڑے پیمانے پر ہونے والے فراڈ پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ فراڈ جس کی منصوبہ بندی سرکاری طور پر کی گئی اور جو پورے ملک میں ہوا۔ ہم نے پانچ صوبوں میں اپنے نمائندوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور انہوں نے جو آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے وہ بڑا خوفناک ہے۔‘
اس وقت افغانستان ایک سیاسی تعطل کا شکار ہے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں مزاحمتکاروں کے حملے بھی جاری ہیں اور قندھار، ہلمند اور زابل سے پرتشدد واقعات میں ہلاکتوں کی خبریں ملی ہیں۔





















