امریکی فوجی کو عمر قید کی سزا

گرین پہلے سابق فوجی ہی جن کے خلاف ایک خاص امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا
،تصویر کا کیپشنگرین پہلے سابق فوجی ہی جن کے خلاف ایک خاص امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا

ایک امریکی جج نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عراق میں جنسی زیادتی اور قتل کے جرم میں سزا پانے والے امریکی فوجی عمر بھر جیل میں رہیں گے۔

چوبیس سالہ سٹیون گرین کو سن دو ہزار چھ میں بغداد کے قریب ایک چودہ سالہ عراقی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے اور اسے اس کے خاندان سمیت قتل کرنے کے جرم میں پانچ بار عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

امریکی ریاست کینٹکی میں جیوری ان کے سزا کے بارے میں متفقہ فیصلہ پر پہنچنے میں ناکام رہی تھی جس کی بنا کر سٹیون گرین سزائے موت سے بچ گئے۔

چار دیگر فوجیوں کو بھی اعانت جرم سزا سنائی گئی ہے۔ ان کی سزائیں دس ماہ سے ایک سو دس سال تک ہیں۔

سٹیون گرین کو ان فوجیوں کا سرغنہ سمجھا جاتا تھا۔

عدالت کے جج ٹامس رسل نے تصدیق کی ہے کہ سٹیون گرین ایک ساتھ پانچ عمر قید کی سزائیں کاٹیں گے اور اس میں پیرول پر رہائی کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔

تین فوجیوں نے عبیر قاسم الجنابی کو پکڑ کر رکھنے، ان سے جنسی زیادتی کرنے اور بعد میں انہیں اپنے والدین اور چھوٹی بہن سمیت قتل کرنے اور گھر کو آگ لگانے کا اقرار کیا ہے۔

سٹیون گرین کو اس کیس کے منظر عام پر آنے سے پہلے ہی فوجی سے برخاست کر دیا گیا تھا۔

وہ پہلے سابق فوجی ہی جن کے خلاف اس امریکی قانون کے تحت مقدمہ چلایا گیا ہے جو دنیا میں کہیں بھی ہونے والے جرائم کے سلسلے میں امریکہ میں مقدمہ چلانے کی اجازت دیتا ہے۔