امریکی دفاعی ٹھیکدار

امریکی فوجی (فائل فوٹ)
،تصویر کا کیپشنعراق اور افغانستان میں پرائیوٹ سیکورٹی کمپنیوں کے ملازمین کے رویے کی وجہ سے امریکہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے
    • مصنف, فراز ہاشمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن

افغانستان اور عراق میں جہاں تقریباً ڈھائی لاکھ کے قریب امریکی فوجی تعینات ہیں وہاں امریکی ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس نےاتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کی معاونت کے لیے دو لاکھ بیالیس ہزار افراد کی خدمات نجی دیفنس کنٹریکٹرز یا دفاعی ٹھیکداروں سے بھی حاصل کر رکھی ہیں۔

امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق مارچ دو ہزار نو تک عراق میں کلُ ایک لاکھ بتیس ہزار چھ سو دس فوجی تعینات تھے جن کو دفاعی ٹھیکداروں سے کرائے پر حاصل کردہ ایک لاکھ اکتالیس ہزار تین سو سابق فوجیوں اور دیگر امدادی کام کرنے والوں کی معاونت حاصل تھی۔

اس رپورٹ میں فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق مارچ سن دو ہزار نو تک افغانستان میں اڑسٹھ ہزار ایک سو ستانوے امریکی فوجی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں برسرِ پیکار تھے اور ان کی مدد کے لیے باون ہزار تین سو کرائے پر حاصل کردہ عملہ اور سابق فوجی بھی افغانستان میں قائم اسی کے قریب امریکی اڈوں پر موجود تھے۔

ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس نے سن دو ہزار تین سے سن دو ہزار سات تک صرف عراق میں ان کمپنیوں کو چھہتر ارب ڈالر مالیت کے ٹھیکے دیے۔ سن دو سات اور سن دو ہزار آٹھ کے مالی سال میں ایک اندازے کے مطانق عراق اور افغانستان میں ان دفاعی ٹھیکداروں نے تیس ارب ڈالر مالیت کے ٹھیکے حاصل کیے۔ ان میں بانچ ارب ڈالر کے ٹھیکے افغانستان میں دیے گئے جب کہ پچیس ارب ڈالر مالیت کے ٹھیکے عراق میں دیےگئے۔

عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کو جن دفاعی ٹھیکیداروں یا ڈیفنس کنٹریکٹرز کی خدمات حاصل ہیں ان میں بلیک واٹر اور آرمور گروپ نارتھ امریکہ بھی شامل ہیں۔

بلیک واٹر پر سن دو ہزار سات میں عراقی حکومت نے کمپنی کے مسلح اہلکاروں کی طرف سے شہریوں پر فائرنگ کے ایک واقعہ کے بعد پابندی لگا دی تھی۔ اس واقع میں چودہ عراقی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ بلیک واٹر کمپنی نے بعد میں اپنا نام تبدیل کر کے ’زی‘ رکھا لیا ہے۔

حال ہی میں افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کی سکیورٹی پر تعینات آرمور گروپ نارتھ امریکہ کے آٹھ سکیورٹی گارڈز کو ایک پارٹی میں برہنہ ناچ اور بے ہودہ حرکات کرنے کی سزا میں برطرف کرکے ملک سے نکال دیا گیا تھا۔

امریکہ کی طرف سے مختلف ملکوں میں پرائیویٹ سکیورٹی کمپنیوں سے کرائے پر حاصل کردہ لوگوں کو استعمال کرنے پر سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔

بلیک واٹر کمپنی پر تو عراق میں شہریوں کی ہلاکت پر ایک مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

ان دنوں پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ امریکی حکومت بلیک واٹر اور دیگر نجی کمپنی کے ملازمین کو ملک میں مختلف مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

تاہم کانگریس میں پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی فوج کی طرف سے پرائیویٹ کمپنیوں کو مختلف کاموں کے لیے استعمال کرنے کی روایت بہت پرانی ہے۔ ان کمپنیوں سے فوج کی نقل و حمل، گاڑیوں کی مرمت، انجینئرنگ کے کاموں، فوجیوں کی خوراک، لباس، وردی اور ہتھیاروں کی صفائی اور مرمت جیسے امور میں کام لینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

وزارتِ دفاع کے علاوہ امریکی وزارتِ خارجہ نے مختلف ملکوں میں سیکیورٹی کے امور بھی ان کمپنیوں کو سونپ رکھے ہیں۔

امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے بھی ان ڈیفنس کنٹرکٹرز سے کام لیتی ہے اور افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں پر بغیر پائلٹ والے طیاروں کے آپریشن میں بھی ان کمپنیوں کے لوگوں سے معاونت لی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈرون طیاروں پر ’ہیل فائر‘ میزائل اور بم لوڈ کرنے کے لیے بلیک واٹر کے عملے کوریاست نیواڈا میں تربیت دی جاتی ہے۔