ڈاکٹر عافیہ:عدالت پر عدم اعتماد پر قائم

- مصنف, جاوید سومرو
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن
امریکی جیل میں قید پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی کے قریبی ذرائع اشارے دے رہے ہیں کہ وہ امریکی عدالت پر عدم اعتماد کے اپنے موقف پر قائم ہیں اور جب دو نومبر سے نیو یارک کی ایک ضلعی عدالت میں ان کے خلاف مقدمے کی باقائدہ کارروائی شروع ہوگی تو امکان یہی ہے کہ جج کے سامنے اپنے اسی موقف کا اظہار کریں گی۔
عافیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ امریکی عدالتوں پر یقین نہیں رکھتیں اس لیے وہ عدالت سے کسی طرح کا تعاون نہیں کریں گی۔
عافیہ صدیقی کے بھائی محمد علی صدیقی کی مرضی سے پاکستانی سفارتخانے نے پندرہ لاکھ ڈالر کی فیس کے عوض جن تین امریکی وکلاء کو مقدمے کی پیرروی کے لیے نامزد کیا ہے وہ بھی عافیہ صدیقی کے رویے سے پریشان ہیں۔
حکومت پاکستان نے امریکہ میں عافیہ صدیقی کے مقدمے کی پیرروی کے لیے تقریباً بیس لاکھ ڈالر کی رقم دی تھی جو عافیہ صدیقی کے بھائی چاہتے تھے کہ مسلم لیگل فنڈ آف امیریکا کو دی جائے جس کے توسط سے وہ عافیہ صدیقی کا مقدمہ چلانا چاہتے تھے۔ تاہم امریکہ کے پاکستانی سفارتخانے نے یہ رقم کسی اور ادارے کو دینے سے انکار کیا لیکن محمد علی صدیقی کو یہ اختیار دیا کہ وہ جو بھی وکلاء نامزد کریں گے حکومت پاکستان ان کو رقم ادا کردے گی۔
پاکستانی سفارتخانے کے مطابق محمد علی صدیقی نے چارلس سوِفٹ، ایلین شارپ اور لِنڈا مورینو پر مشتمل پینل تشکیل دینے کی سفارش کی جن کو حکومت پاکستان نے عافیہ صدیقی کے وکلاء نامزد کردیا اور تینوں کو پانچ پانچ لاکھ ڈالر کی فیس پیشگی ادا کردی گئی ہے۔

چارلس سوِفٹ وہ وکیل ہیں جو القاعدہ کے سربراہ اوسامہ بن لادن کے ڈرائور حماد کا مقدمہ بھی کامیابی سے لڑ چکے ہیں لیکن وکلاء کی ٹیم کو اِس وقت سب سے بڑا مسئلا یہ درپیش ہے کہ ان عافیہ صدیقی نے اپنے وکیل کے طور پر قبول کرنے سے انکار کیا ہوا ہے۔
نیو یارک میں ہونے والی گزشتہ کارروائی میں وکلاء نے جج کے سامنے یہ موقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں اس لیے ان کے انکار کے باوجود وکیلوں کو ان کی پیرروی کرنے کی اجازت دی جائے۔ جج نے وکلاء کی یہ درخواست مان لی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف نے عافیہ صدیقی پر امریکی فوجی اور سویلین اہلکاروں کو ہلاک کرنے اور ان پر حملے کے چھ الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے جس کی باقائدہ کارروائی دو نومبر سے نیویارک کی ایک ضلعی عدالت میں شروع ہو رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عافیہ صدیقی سے چند ملاقاتیں کرنے والے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ خاتون کی دماغی حالت درست نہیں اور وہ اپنی زندگی کے بارے میں کئی سوالات کا جواب دینا نہیں چاہتیں، مثال لے طور پر وہ یہ بتانا نہیں چاہتیں کہ وہ جب گرفتار ہوئیں تو افغانستان کے شہر غزنی میں کیا کر رہی تھیں؟
عافیہ صدیقی 1991 سے 2002 تک امریکہ میں رہیں اور تعلیم حاصل کی لیکن اس کے بعد سے وہ 2008 تک کہاں تھیں اور کیا کر رہی تھیں جب انہیں گرفتار کیا گیا۔ وہ اس بات کا جواب دینے سے بھی قاصر ہیں کہ ان کے باقی دو بچے کہاں ہیں؟
عافیہ صدیقی کے سابق شوہر پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں متعدد انٹرویوز میں الزام لگا چکے ہیں کہ عافیہ کے خیالات کے بارے انہیں ہمیشہ فکر رہتی۔
عافیہ صدیقی جب امریکہ میں رہتی تھیں تب امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ان سے دہشت گردی سے متعلق الزامات میں پوچھ گچھ کی تھی تاہم انہیں نہ گرفتار کیا گیا اور نہ ہی الزامات عائد کیے گئے لیکن اس کے بعد وہ امریکہ چھوڑ کر پاکستان چلی گئیں۔
امریکی محکمہ انصاف نے عافیہ صدیقی پر جو فرد جرم عائد کی ہے اس کے مطابق 18 جولائی 2008 کو امریکی فوج، ایف بی آئی اور امریکی مترجموں پر مشتمل ایک ٹیم نے عافیہ صدیقی سے غزنی (افغانستان) میں ایک تفتیشی انٹرویو کرنے کی کوشش کی جس کے دوران عافیہ نے ایک امریکی فوجی کی ایم۔4 رائفل اٹھا کر امریکی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے لیے فائرنگ کی۔ یہ دعوی کیا گیا ہے کہ انہیں جب قابو کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے ایک مترجم اور ایف بی آئی کے ایک اہلکار پر حملہ کردیا۔ فرد جرم کے مطابق عافیہ کو ایک روز پہلے ہی افغان پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی، عافیہ پر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عافیہ کو افغانستان سے نہیں بلکہ کراچی سے ان کے تین بچوں کے ہمراہ اغوا کیا گیا تھا۔
لیکن امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہیں جب افغان حکام نے گرفتار کیا تو ان کے پاس سے ایسا مواد ملا جس سے لگتا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر امریکہ اور دیگر ممالک میں قتل و غارتگری کی سازش میں ملوث ہوسکتی ہیں۔
عافیہ کے دو سے زائد مرتبہ ہونے والے طبی معائنوں میں بتایا گیا ہے کہ ان کی دماغی حالت درست نہیں۔
اس مقدمے سے متعلق معلومات رکھنے والے ایک ذریعے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ امریکی حکام کو یقین ہے کہ عافیہ دہشت گردی کے ایک ’سلیپنگ سیل‘ کے ساتھ تھیں لیکن وہ الزامات استغاثہ نے اس لیے عائد نہیں کیے کیونکہ کچھ اور معاملات اس سے کھل جاتے جو امریکی حکام نہیں چاہتے۔ لیکن ان کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ جو مقدمہ عافیہ پر بنایا گیا ہے اس میں خاصے جھول ہیں اس لیے امکان یہ ہے کہ امریکی یا تو عافیہ پر دہشتگردی کے مزید سنگین الزامات عائد کریں گے یا پھر اگر وہ دیگر معاملات کو خفیہ رکھنا چاہیں گے تو سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں پاکستانی حکام کے حوالے کردیں گے۔





















