حکومت سے اختلاف نہیں:امریکی جنرل

افغانستان میں غیر ملکی فوجی(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنجنرل مککرسٹل مزی چالیس ہزار فوجی بھیجنے کا مطالبہ کریں گے: اطلاعات

افغانستان میں ایک اعلیٰ امریکی فوجی کمانڈر نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کا اپنی حکومت سے افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے کے معاملے پر اختلاف ہے۔

جنرل سٹین مککرسٹل نے حال ہی میں افغانستان میں لڑائی کے بارے میں مایوسکن تجزیہ پیش کیا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ مناسب وسائل کی عدم موجودگی میں اس میں شکست بھی ہو سکتی ہے۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ وہ مزید فوجی بھیجنے سے قبل یقین دہانی کرنا چاہتے ہیں کہ افغانستان کے معاملے پر ان کے پاس درست حکمت عملی موجود ہے۔

مئی کے بعد افغانستان میں تیس ہزار نئے امریکی فوجی روانہ کیے جا چکے ہیں۔ اس سے وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔

دریں اثناء واشنگٹن میں امریکی صدر کے مشیروں اور امریکی فوجی کمانڈروں کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے اشارے مل رہے ہیں۔

جنرل مککرسٹل نے سرکاری طور پر مزید فوجیوں کا مطالبہ نہیں کیا لیکن ان کے تبصرے سے اشارہ ملتا ہے کہ عنقریب وہ ایسا کر سکتے ہیں اور انہیں پینٹاگون میں اپنے سینیئروں کی حمایت حاصل ہے۔

اس کےمقابلے میں وائٹ ہاؤس میں صدر کے رفقاء فوجی کارروائی کا دائرہ پھیلانے کے خلاف تنبیہ کر رہے ہیں۔

جنرل مککرسٹل نے نیو یارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ افغانستان کے بارے میں کیا پالیسی ہونی چاہیے اس پر بحث کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات کو مسترد کیا کہ انہوں نے کبھی مستعفی ہونے کے بارے میں سوچا تھا۔

کچھ اطلاعات کے مطابق جنرل مککرسٹل مزید چالیس ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا مطالبہ کرنے جا رہے ہیں۔