پیٹر گالبریتھ کو برطرف کر دیا گیا

افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے ایک سینیر اہلکار پیٹر گالبریتھ کو افغانستان میں الیکشن کے حوالے سے پیدا ہونے والی نزع کے نتیجے میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی، الیکشن کمیشن کے ارکان اور کچھ وزیر پیٹر گالبریتھ کی جانب سے افغانستان کے الیکشن کمیشن پر تنقید کی وجہ سے ان سے ناراض تھے۔ پیٹر گالبریتھ کے بارے میں پتا چلا ہے کہ انھوں نے کہا تھا کہ ووٹوں کی گنتی دوبارہ کروائی جائے۔
گزشتہ ہفتے افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے چوٹی کے ایک نمائندے کائی آئدہ نے کہا تھا کہ پیٹر گالبریتھ کے ساتھ ان کی تکرار ہوئی تھی جس کے بعد پیٹر افغانستان سے چلے گئے تھے لیکن انھوں نے اس بات سے انکار کیا کہ ’میں نے پیٹر کو افغانستان سے چلے جانے کا حکم دیا تھا۔‘
بی بی سی کی نامہ نگار لیز ڈیوسٹ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے ذرائع کہہ رہے ہیں کہ سیکریٹری جنرل بانکی مون نے فیصلہ کیا ہےکہ وہ پیٹر گالبریتھ کا مشن ختم کردیں کیونکہ پیٹر افغانستان میں اپنا کام کرنے کے قابل نہیں رہے۔افغان کابینہ کے کچھ اراکین نے بھی یہ کہا تھا کہ وہ پیٹر گالبریتھ کے ساتھ مل کر کام نہیں کرنا چاہتے۔
یورپی اتحاد کے انتخابی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کے حالیہ انتخابات میں لگ بھگ پندرہ لاکھ ووٹ جو تمام ووٹوں کا ایک چوتھائی بنتا ہے، جعلی ہو سکتے ہیں۔

















