’نوبیل اعزاز عمل کی دعوت ہے‘

امریکہ کے صدر براک اوباما نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کو دیا گیا امن کا نوبیل انعام امریکہ اور باقی دنیا کے لیے عمل کی دعوت ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز اکیسویں صدی میں دنیا کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے ایک چیلنج ہے۔ صدر اوباما نے کہا کہ ان مشکلات میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا اور ماحول کی تبدیلی پر قابو پانا شامل ہیں۔
<link type="page"><caption> امن کا نوبیل انعام اوباما کے لیے</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/10/091009_obama_nobel_prize.shtml" platform="highweb"/></link>
صدر اوباما نے کہا کہ نوبیل ملنا ان کے لیے حیران کن تھا اور وہ نوبیل انعام دینے والی کمیٹی کے فیصلے سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان سے نمٹنا ایک شخص یا ایک قوم کے بس کی بات نہیں ہے۔
ناروے میں نوبیل انعام دینے والی کمیٹی نے کہا کہ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی ایک شخص اس طرح دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہو اور اس نے لوگوں کو ایک بہتر مستقبل کی امید بھی دی ہے۔
صدر اوباما نے کہا کہ ان کی کامیابی ان کے کام کا صرف آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں وہ ان بہت سے لوگوں کی صف میں کھڑے ہونے کے حق دار نہیں تھے جنہوں نے حقیقتاً دنیا کو تبدیل کیا تھا اور نوبیل انعام حاصل کیا۔
صدر اوباما نے کہا کہ ان کے کچھ عزائم، خاص طور پر جوہری ہتھیاروں کا مکمل خاتمہ، ان کی صدارت میں تو کجا شاید ان کی زندگی میں بھی نہ پورے ہو سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ ان کے لیے نوبیل انعام دراصل دنیا کی اقوام میں امریکہ کی رہنما حیثیت کا بھی تصدیق ہے۔ براک اوباما نے کہا کہ ماضی میں نوبیل انعام صرف مخصوص کامیابیوں پر ہی نہیں دیا گیا بلکہ یہ کسی اچھے مقصد کو تحریک دینے کے لیے بھی ملتا رہا ہے۔
’اسی لیے میں اس اعزاز کو دعوت عمل سمجھتے ہوئے قبول کروں گا، دعوت جو تمام اقوام کو اکیسویں صدی کی مشکلات سے نمٹنے کا چیلنج دیتی ہے‘۔





















