سزا سے مستثنی رکھنے کی اپیل مسترد

رادوان کرادچ
،تصویر کا کیپشنرادوان کرادچ پرنسل کشی سمیت گیارہ الزامات ہیں

بوسینیا کے سابق سرب رہنما رادوان کرادچ نے اقوام متحدہ کے ٹریبونل سے خود پر لگائے جانے والے جنگی جرائم ختم کرنے کے لیے جو ددرخواست دی تھی اسے مسترد کردیا گیا ہے۔

انہوں نے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس میں عدالت نے کہا تھا کہ الزامات کو بے بنیاد قرار دیے جانے کے دعوے کے باوجود مقدمہ چلتا رہےگا۔

لیکن عدالت نے کہا ہے کہ ہیگ میں مقدمہ کی ابتدا سے پہلے دستاویزات کے مطالعہ کے لیے انہیں مزید وقت دیا جائے گا۔

مقدمہ کی شروعات اکیس اکتوبر کو ہونی تھی لیکن اب اس میں کچھ تاخیر ہوگی کیوں کہ مسٹر کرادچ کو فرد جرم پڑھنے کے لیے پانچ دن کا وقت دیا گیا ہے۔ عدالت کے احکامات کے مطابق کاغذات انیس تاریخ تک دینے ضروری ہیں۔

کرادچ کو جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے گیارہ الزامات میں مقدمے کا سامنا ہے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق بوسنیائی جنگ سے ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا۔

کرادچ تیرہ سال تک مفرور رہے تھے جس کے بعد انہیں بلغراد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک حکومتی فرمان کے ذریعہ انہیں مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے دی ہیگ بھیح دیا گیا تھا۔روپوشی کے دوران کرادچ نے داڑھی بڑھا لی تھی جو گرفتاری کے بعد مونڈ دی گئی اور ان کی نئی تصاویر جاری کی گئیں۔

مسٹر کرادچ نے انیس سو اکیانوے میں بوسنیائی سرب اسمبلی کے قیام کے لیے کام کیا اور یہ اقدام بوسنیا میں انیس سو بانوے سے لے کر انیس سو پچانوے تک جاری رہنے والی لڑائی کا پیش خیمہ بنا۔

کرادچ پر سرایووو پر بمباری اور اقوام متحدہ کے امن قائم رکھنے والے دو سو چوراسی اہلکاروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔