طالبان کو ’مال‘ نہیں دیا: اٹلی

اٹلی نے برطانوی اخبار ٹائمز کی اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ اس نے افغانستان میں اپنی فوجوں کو محفوظ رکھنے کےلیے دسویں ہزار ڈالر دیئے تھے۔
اٹلی کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ان کا ملک ٹائمز اخبار پر ہرجانے کا دعویٰ دائر کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
ٹائمز نے افغانستان میں مغربی فوجی ذرائع کےحوالے سے خبر دی ہے کہ اٹلی کا فوجی دستہ جو افغانستان کے علاقےسروبی میں تعینات تھا وہ وہاں اپنے آپ کو حملوں سے محفوظ رکھنے کی غرض سے مقامی جنگجو سرداروں اور طالبان کو دسویں ہزار ڈالر دیئے تھے۔
اخبار کے مطابق فرانسیسی فوج نےجب سروبی میں ڈیوٹی سنھبالی تو اس علاقے کو انتہائی کم خطرناک علاقہ تصور کیا جاتا تھا لیکن تھوڑے ہی عرصے میں فرانس کے دس فوجی مختلف حملوں میں مارے گئے۔
فرانس کی حزب اختلاف کی جماعت سوشلسٹ پارٹی حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹائمز اخبار میں اٹھائے جانے والے نکات کا جواب دے۔
اخبار کےمطابق اٹلی نے اپنی فوجیوں کو طالبان سے محفوظ رکھنے کی پالیسی پر اپنی خفیہ ایجنسی کے ذریعے عمل کیا۔
ایک افغان آرمی آفیسر نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ انہیں پتہ ہے کہ اٹلی طالبان کو رقم دیتا رہا ہے۔
’ہمیں پتہ ہے کہ سروبی کے علاقے میں اٹلی کی فوجیں حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے جنجگوؤں کو رقم دیتی رہی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغانستان کے فوجی نے کہا ہمیں ایسی اطلاعات بھی ملی کہ ہرات میں اسی طرح کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ اٹلی کے فوجی اب ہرات میں تعینات ہیں۔
نیٹو، اٹلی اور فرانس نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔ فرانس کے ایڈمرل کرسٹوفی پرزک نے کہا کہ وہ ایسے الزامات سنتے رہے ہیں۔اٹلی کے وزیر اعظم سیلویو برلسکونی کے دفتر نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔






















