’افغان افیون دنیا کے لیے تباہ کن‘

اقوامِِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افیون کی غیر قانونی پیداوار پر افغانستان کی اجارہ داری سے عالمی سطح پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افیون کی منڈی سے بین الاقوامی سطح پر دہشت گردی کو پینسٹھ بلین ڈالر فراہم ہوتے ہیں جبکہ اس پیداوار سے پندرہ ملین نشے کے عادیوں کا گزارہ ہوتا ہے اور ہر برس ایک لاکھ افراد افیون سے ہلاک ہوتے ہیں۔
افیون کی عالمی پیدوار کا بانوے فیصد افغانستان میں پیدا ہوتا ہے اور اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ہر سال افغانستان سے تین ہزار پانچ سو ٹن افیون دوسرے ملکوں کی طرف جاتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرحدوں پر کنٹرول نہ ہونا اور وہاں لاقانونیت کی وجہ سے صرف دو فیصد کے قریب افیون یا اس سے بننے والا دیگر مواد گرفت میں لیا جا سکتا ہے۔
افغانستان سے باہر جانے والی بیشتر افیون پاکستان سے ہوتے ہوئے وسطی ایشیا اور ایران تک پہنچتی ہے جہاں ان گنت لوگ اس نشے کے عادی بنتے ہیں، جرائم کے راستے پر چل نکلتے ہیں اور بالآخر موت سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔
منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یو این او ڈی سی کے آنتونیو کوسٹا کا کہنا ہے افغانستان میں پیدا ہونے والی افیون خطے میں بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد دنیا میں آزادانہ تجارت کا سب سے بڑا زون بن چکی ہے جہاں ہر ناجائز چیز کی تجارت ہو سکتی ہے۔ ’یہاں منشیات بھی ملتی ہیں اور ہتھیار بھی، یہاں بم ساز سامان بھی دستیاب ہے اور عام لوگ بھی۔ حتیٰ کہ تارکینِ وطن بھی‘۔
آنتونیو نے افغانستان میں ان ممالک کے بارے میں بھی اظہارِ خیال کیا جو فی الوقت کسی نہ کسی طرح افغانستان سے متعلق ہیں۔ ’میں افغانستان کے دوستوں سے زور دے کر کہتا ہوں کہ بڑی حد تک یہ تکلیف دہ حقیقتیں ان کی غفلت کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔‘
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں ان عوامل کو اجاگر کیا گیا ہے جو ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان میں منشیات کی غیر قانونی تجارت سے دنیا میں اتنا زیادہ اثر کیونکر ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک اہم پہلو جس کی طرف رپورٹ اشارہ کرتی ہے، یہ ہے کہ افغانستان میں لاقانونیت اورکرپشن ہے اور اس کی سرحدوں پر کسی طرح کا کنٹرول نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سے غیر قانونی طور باہر بھیجی جانے والی افیون کی انتہائی قلیل مقدار پکڑ میں آتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہر سال یہ قبضے میں لی جانے والی مقدار صرف دو فیصد ہے جبکہ کولمبیا میں یہی مقدار چھتیس فیصد سالانہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق کابل میں ایک گرام ہیروئن کی قیمت تین ڈالر ہے جبکہ یہی ہیروئن لندن، میلان یا ماسکو کی سڑکوں پر سو ڈالر کی ملتی ہے۔





















