کابل: اقوام متحدہ گیسٹ ہاؤس پر حملہ، چھ ہلاک

حملے میں اقوام متحدہ کے عملے کے تین ارکان ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوئے۔
،تصویر کا کیپشنحملے میں اقوام متحدہ کے عملے کے تین ارکان ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوئے۔

افغان دارالحکومت کابل میں بندوق برداروں نے اقوام متحدہ کے زیر استعمال گیسٹ ہاؤس پر حملہ کر کے عملے کے چھ غیر ملکی ارکان کو ہلاک اور نو کو زخمی کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حملے میں اقوام متحدہ کے عملے کےچھ ارکان ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہوئے۔تینوں حملہ آوروں نے خود کشی کر لی ہے۔

<link type="page"><caption> کابل گیسٹ ہاؤس پر حملہ، تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/10/091028_kabul_un_pics_rh.shtml" platform="highweb"/></link>

افغانستان میں طالبان کے ترجمان زابیح اللہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ طالبان ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو فون کر کے بتایا کہ حملہ آور بندوق، گرینیڈ اور لائف جیکٹ سے مسلح تھے۔

یو این سٹاف کے زیر استعمال گیسٹ ہاؤس پر حملے کے بعد سرینا ہوٹل پر راکٹ حملہ گیا لیکن اس حملے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔سرینا ہوٹل میں سفارت کاروں اور غیر ملکیوں کی بڑی تعداد مقیم ہے۔ راکٹ حملے کے بعد ہوٹل میں موجود ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو محفوظ پناہ گاہوں میں لے جایا گیا۔

افغان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گیسٹ ہاؤس پر ہونے والے حملے میں چھ غیر ملکی ہلاک ہوئے ہیں۔ترجمان نے دعویٰ کیا کہ گیسٹ ہاؤس میں ہونے والا آپریشن ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین خود کش بمبار گیسٹ ہاؤس میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

راکٹ حملے کے بعد ہوٹل میں موجود ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو ایک زیر زمین بنکر میں لے جایا گیا۔

افغانستان کے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے کے قریب گیسٹ ہاؤس دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آواز سے گونج اٹھا اور پولیس کی جیپوں اور آگ بجھانے والی گاڑیوں کو شہرِنو میں واقع اس عمارت کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں حملہ آوروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

بعد میں افغان طالبان کے ایک ترجمان نے ایک ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے یہ کہہ کر حملے کی ذمہ داری قبول کی کہ یہ حملہ سات نومبر کو ہونےوالے صدارتی انتخابات کو درہم برہم کرنے کے سلسلے میں پہلا قدم ہے۔

طالبان ترجمان کے مطابق کئی خود کش حملہ آوروں نے اقوام متحدہ کے کے کئی کارکنوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

افغان پولیس کے ایک اہلکار وحید صادقی نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ پانچ سے چھ حملہ آور گیسٹ ہاؤس میں موجود ہیں۔

پولیس نے اس علاقے میں کئی گلیوں کو ناکے لگا کر بند کر دیا ہے۔

حالیہ مہینوں میں کابل کو کئی بار ایسے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جن میں طالبان جنگجوؤں نے غیر ملکی فوجیوں یا سرکاری دفاتر کو نشانہ بنایا ہے۔

یہ تازہ ترین حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے سے پہلے ملک میں سخت کشیدگی کا ماحول ہے اور امریکی صدر براک اوباما ایک ایسے بِل پر دستخط کرنے والے ہیں جس کے تحت حکومت کے خلاف تشدد کو ترک کرنے والے طالبان جنگجوؤں کو رقوم ادا کی جائیں گی۔

اس دفاعی بِل کے تحت قائم ہونے والے فنڈ کے لیے ایک اعشاریہ تین ارب ڈالر کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔

امریکی کمانڈر عراق میں حکومت سے مل جانے والے شدت پسندوں کو ایسی ادائیگیاں کرتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ افغانستان میں بھی یہ سلسلہ پہلی بار باقاعدگی سے شروع کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ لِسٹر کا کہنا ہے کہ عراق میں اس سکیم کے تحت نوے ہزار بندوق برداروں نے حکومت مخالف کارروائیاں چھوڑ کر مقامی لشکر بنائے اور اپنے شہروں کو شدت پسندوں سے بچایا۔