امریکہ:اصلاحات کا تاریخی بِل

سینیٹر ریڈ
،تصویر کا کیپشنسینیٹر ریڈ کا بِل دو ہزار سے زیادہ صفحات پر مشتمل ہے

امریکہ میں سینیٹ نے صحت کے شعبے میں تاریخی اہمیت کی اصلاحات کے بِل کو بحث کے لیے سینیٹ میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

اب تیس نومبر سے بِل پر بحث شروع ہو گی اور سینیٹ کے اراکین اس میں ترامیم تجویز کر سکیں گے جس کے بعد اس بِل کو منظور کرنے یا نہ کرنے پر رائے شماری ہوگی۔

بِل کو بحث کے لیے پیش کرنے کے حق میں ساٹھ ووٹ ڈالے گئے جبکہ اس کی مخالفت میں انتالیس ووٹ آئے۔ بِل کی بحث کے لیے منظوری ڈیموکریٹک پارٹی اور ملک کے صدر براک اوباما کے لیے بڑی کامیابی ہے کیونکہ ان کے تین ارکان کی حمایت مشکوک تھی اور ایک ووٹ کی کمی بھی بِل کو التوا میں ڈال سکتی تھی۔

صدر اوباما نے انتخابی مہم کے دوران صحت کے شعبے میں وسیع پیمانے پر ایسی اصلاحات کا وعدہ کیا تھا جن کی رو سے لاکھوں مزید لوگوں کو صحت کی سہولیات میسر ہو سکیں گی جن کے پاس ابھی انشورنس نہیں۔

سینیٹ میں رائے شماری کے بعد وائٹ ہاؤس نے بیان دیا کے صدر اوباما سنیچر کے ’تاریخی ووٹ‘ سے بہت خوش ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ہیر ریڈ کا تجویز کردہ یہ بِل اگر قانون بن گیا تو تین کروڑ دس لاکھ مزید امریکیوں تک صحت کی سہولیات پہنچ سکیں گی۔ بِل پر عملدرآمد کی لاگت کا اندازہ آٹھ سو انچاس ارب ڈالر ہے۔ بِل دو ہزار چوہتر صفحات پر مشتمل ہے۔

رپبلکن پارٹی کے تمام سینیٹروں نے بِل کو بحث کے لیے پیش کرنے کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کی منظوری سے حکومت کے اخراجات بہت بڑھ جائیں گے۔

سینیٹر رِیڈ نے رپبلکن پارٹی کے سینیٹروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح تو ماضی میں تصور کریں کہ اگر غلامی کے نظام کے خاتمے یا خواتین اور اقلیتوں کو مساوی حقوق دینے کے بلوں پر بھی مخالفین بحث نہ ہونے دیتے اور رائے شماری تک نوبت نہ آتی تو کیا ہوتا۔

اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کا ایک بِل پہلے ہی منظور ہو چکا ہے۔ بِل کے تحت زیادہ تر امریکیوں کو صحت کی انشورنس حاصل کرنی پڑے گی اور نجی انشورنس کمپنیاں لوگوں کو اس بات پر انشورنس دینے سے انکار نہیں کر سکیں گی کہ وہ پہلے سے کسی عارضے میں مبتلا ہیں۔

نئے بل کے تحت نجی انشورنس کی قیمت کم رکھنے کے لیے سرکاری طور بھی انشورنس فراہم کی جائے گی۔ یہ سہولت سن دو ہزار چودہ سے میسر ہو گی۔

سینیٹ سے منظوری کی صورت میں سینیٹر ریڈ کے بِل اور ایوان نمائندگان یعنی کانگریس سے منظور ہونے والے بِل کو ملا کر دوبارہ رائے شماری ہو گی اور پھر صدر کے دستخطوں سے وہ قانون بن جائے گا۔