نوبیل انعام تنازعہ: ایران کی تردید

ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اس نے نوبیل انعام یافتہ وکیل اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی شیرین عبادی کا تمغہ اور ڈپلومہ ضبط کیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں ناروے کو ایران کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
یاد رہے کہ سنہ دو ہزار تین میں امن کے لیے نوبل انعام جیتنے والی ایرانی وکیل شیریں عبادی نے کہا ہے کہ ایرانی حکام نے ان کا نوبیل تمغہ اور ڈپلوما ضبط کرلیا ہے۔
اس کے بعد ناروے کی وزارت خارجہ نے ایرانی سفارتکار کو طلب کر کے اس بارے میں اپنے احتجاج کیا۔ ناروے کی نوبیل کمیٹی اس انعام کا فیصلہ کرتی ہے۔
انسانی حقوقو کے لیے کام کرنے والی وکیل شیریں عبادی نے بتایا ہے کہ تقریباً تین ہفتے قبل تہران میں ان کے بینک کے لاکر سے نوبیل انعام کا تمغہ اور ڈپلوما نکال لیا گیا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی سال سے حکام ان کو حراساں کر رہے ہیں اور ٹیکس حکام نے نوبیل انعام کی سوا میلن ڈالر کی رقم پر ان سے ٹیکس وصول کرنے کی کوشش بھی کی حالانکہ مقامی قانو ن کے مطابق اس پر ٹیکس معاف ہے۔
ناروے نے نوبیل یافتہ ایرانی وکیل کے خاندان کے تحفظ کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ شیریں عبادی کے شوہر کو حال میں مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ ناروے کی وزارت خارجہ کے مطابق شیریں عبادی اور ان کے خاندان کے ساتھ اس طرح کا سلوک یہ ثابت کرتا ہے کہ ایران میں کوئی آزادی اظہار نہیں ہے۔
شیریں عبادی اس سال بارہ جون کے صدارتی انتخاب سے پہلے ایک کانفرنس کے لیے ایران سے نکلی تھیں اور اس وقت سے ملک سے باہر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو ملنے والی دھمکیاں ان کی واپسی کو نہیں روک سکیں گی اور وہ اس وقت ایران لوٹیں گی جب ان کے ملک کے لیے مفید ثابت ہو سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















