عالمی مطالبات، اسرائیلی عزائم

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ عرب آبادی والے علاقے مشرقی یروشلم میں سات سو نئے گھر تعمیر کرے گا۔ واضح رہے کہ فلسطینی اور عالمی برادری کا مطالبہ ہے کہ وہ ان علاقوں میں تعمیرات روک دے۔
امریکہ اور یورپی یونین نے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اسرائیل نےگزشتہ ماہ بھی یروشلم کے جنوب میں ایک مقبوضہ علاقے میں نو سو نئے گھر تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اسرائیل نے انیس سو سڑسٹھ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا اور پھر بعد میں اسے اپنا حصہ قرار دے دیا۔ تاہم عالمی برداری نے اس الحاق کو تسلیم نہیں کیا تھا۔اسرائیل مشرقی یروشلم کو اسرائیل کے ’ناقابل تقسیم اور ابدی‘ دارالحکومت کا حصہ قرار دیتا ہے۔
اس کے برعکس فلسطینی مستقبل میں مشرقی یروشلم کو اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے گھروں کی تعمیر کے منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے اسرائیل کی ’امن میں دلچسپی نہیں‘۔
امریکہ میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے کہا ہے کہ ’امریکہ اسرائیل کی طرف سے مشرقی یروشلم میں نئی تعمیرات کی مخالفت کرتا ہے۔‘
امریکہ نے اسرائیل اور فلسطین دونوں سے ایک بار پھر رکے ہوئے امن مذاکرات جلد از جلد دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یورپی یونین نے کہا کہ اسے اسرائیل کے اعلان سے مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مقبوضہ علاقے پر بستیاں تعمیر کرنا بین الاقوامی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے‘۔
یورپی یونین کے صدر دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا نیا منصوبہ’ بین الاقوامی برداری کی طرف سے مسلسل مطالبات کی مخالفت ہے اور دوبارہ مذاکرت کے شروع ہونے کے لیے سازگار ماحول کے قیام میں رکاوٹ ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیل کی ہاؤسنگ کی وزارت نے کہا ہے کہ نیا منصوبہ ملک بھر میں ساڑھے چھ ہزار نئے گھروں کے لیے ٹھیکے دینے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
اسرائیل نےگزشتہ ماہ امریکہ کے شدید دباؤ میں غرب اردن کے علاقوں میں دس ماہ تک نئی تعمیرات روکنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی دائیں بازو کی حکومت یہ واضح کر چکی ہے وہ یروشلم کے یہودی علاقوں کو اس میں شامل نہیں کرتی اور تعمیرات پر پابندیوں کا اطلاق وہاں نہیں ہوتا۔
فلسطینیوں نے غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں نئی تعمیرات رکنے تک اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں پانچ لاکھ اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دی جانے والی بستیوں میں قیام پذیر ہیں۔



















