تھیچر کے لیے کراٹے کی ماہر خواتین کی پیشکش

برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی نئی دستاویزات کے مطابق جاپان سے کہا گیا تھا کہ وہ برطانیہ کی پہلی خاتون وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی سکیورٹی کے لیے کراٹے کی ماہر بیس خواتین پر مشتمل دستے کو تعینات نہ کریں۔
مارگریٹ تھیچر نے سنہ انیس سو اناسی میں برطانیہ میں منعقد ہونے والے عام انتخابات جیتنے کے ایک ماہ بعد ٹوکیو کا دورہ کیا تھا۔
جاپانی حکام کی جانب سے اس خبر کی تصدیق ہونے کے بعد لارڈ پروی سیل نے وزارت خارجہ کو خط لکھا کہ ’مسز تھیچر کی خواہش ہے کہ ان کا استقبال بھی دوسرے رہنماؤں کی طرح کیا جائے۔‘
برطانیہ کے نیشنل آرکائیو کی جانب سے جاری کیے گئے ان دستاویزات کے مطابق یہ خط اکیس مئی سنہ انیس سو اناسی کو لکھا گیا۔
خط کے مطابق جب اس وقت کے کابینہ کے سیکریٹری سر جان ہنٹ نے برطانوی ٹی وی پر جاری ہونے والی رپورٹ دیکھی جس میں کہا گیا کہ ٹوکیو میں مارگریٹ تھیچر کی سکیورٹی کراٹے کی ماہر خواتین پر مشتمل دستہ کرے گا تو انہوں نے اس بارے میں اپنے تحفضات کا اظہار کیا۔
خط کے مطابق سر جان ہنٹ نے اپنے جاپانی ہم منصب کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اس بات کا ذکرکیا جس میں انہیں بتایا گیا کہ یہ رپورٹ درست ہے۔
سر جان ہنٹ نے کہا ’مسزتھیچر سربراہی اجلاس میں وزیراعظم کی حیثیت سے شرکت کریں گی اور انہیں یقین ہے کہ وہ بھی یہی چاہتی ہیں کہ ان کے ساتھ بھی دیگر سربراہان مملکت کی طرح کا برتاؤ کیا جائے۔‘
سرجان کے مطابق ’اگر سربراہی اجلاس میں شامل دیگر رہمناؤں کے لیے کراٹے کے ماہر بیس مرد تعینات دیے جائیں تو وزیراعظم کو اس بات پر کوئی اعتراض نہ ہو گا لیکن مسز تھیچر کی یہ ہرگز یہ خواہش نہیں ہے کہ انہیں خاص اہمیت دی جائے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















