قاتل مچھلی کرتب دکھاتی رہیگی

ٹرینر ڈاؤن برینکیاؤ مرنے سے چند لمحے پہلے اپنی قاتل مچھلی سے کھیلتے ہوئے
،تصویر کا کیپشنٹرینر ڈاؤن برینکیاؤ مرنے سے چند لمحے پہلے اپنی قاتل مچھلی سے کھیلتے ہوئے

فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں سمندری حیات کا تفریحی پارک کھول دیا گیا ہے۔ پارک دو روز قبل ایک شو کے دوران وہیل مچھلی ’تیلیکم‘ کے ساتھ پانی میں کرتب دکھاتے ہوئے تربیتی عملے کی ایک خاتون رکن کی ہلاکت کے بعد بند کردیا گیا تھا۔

تاہم تربیتی خاتون ڈاؤن بیکیاؤ کو ہلاک کرنے والی قاتل وہیل شو کرنے والی ٹیم میں شامل رہیگی۔

اورلینڈو کے اس پارک میں دوروز قبل شو کے دوران کرتب دکھاتے دکھاتے ویل مچھلی نے اچانک تالاب کے کنارے کھڑی تربیتی خاتون کو دبوچ کر پانی میں گھسیٹا اور چند جھٹکے دے کراسے ہمیشہ کے لیے ڈبو دیا ۔

چند لمحوں تک تو تماشائی موت کے اس کھیل کو بھی کرتب کا ہی حصہ سمجھتے رہے۔

کچھ ہی دیر پہلے ’تیلیکم‘ نامی طویل اللجسہ وہیل مچھلی سے اٹکھیلیاں کرتی، اسے انتہائی مبحت سے غذا کھلاتی ڈاؤن نے شائد یہ سوچا بھی نہ ہو کہ وہ زندگی سے نہیں اپنی موت سے کھیل رہی ہے کیونکہ کچھ ہی دیر بعد تیلکم نے ایک ہی جھٹکے میں اسے کھیلتی ہوئی زندگی سے ہمیشہ کے لیے دور کرکے موت کی خاموشیوں میں دکھیل دیا۔

پارک انتظامیہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ویل مچھلی ’تیلیکم‘ کی شو میں شمولیت اس کی بہتری کی لیے ضروری ہے۔ لیکن عملے کے رکن قاتل مچھلیوں کے ساتھ کرتب دکھانے کے لیے اس وقت تک پانی میں نہیں اتریں گے جب تک عملے کی حفاظت کے طریقہ کارکا از سر نو جائزہ مکمل نہیں ہوجاتا۔

قاتل ویل تیلیکم خاتون پر حملے سے پہلے
،تصویر کا کیپشنقاتل ویل تیلیکم خاتون پر حملے سے پہلے

ڈاؤن پندرہ برس سے یہ کام کررہی تھی انھیں اپنے کام سے عشق تھا۔

پارک کے عملے کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ویل مچھلی نے خاتون پر حملہ کیا یا ممکن ہے ان کا پاؤں پھسل گیا ہو۔ تاہم عینی شاہدین نے اپنے ٹی وی انٹرویوز میں بتایا ہے کہ وہیل انتہائی تیزی سے پانی سے ابھر ی اور خاتون کو کمر سے دبوچ کر انتہائی تیزی سے جھٹکے دینے شروع کر دیئے۔ اور چند لمحوں کے بعد ہمیں تالاب میں اس کا ایک جوتا تیرتا ہوا نظر آیا۔

تماشائیوں کو فوراً پارک سے باہر نکال دیا گیا تاہم خاتون کو جانبر کرنےکی کوشیش کامیاب نہ ہوسکیں۔

امریکہ میں اس طرح کے تین پارک ہیں۔ جن میں وہیل مچھلیوں کو سدھا کر ان کے کرتب دکھائے جاتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تیلیکم نے انیس سو اکیاوے میں بھی کینڈا میں ایک تربیتی خاتون کو ہلاک کیا تھا۔

ویل مچھلی ڈولفن نسل ’اوکرا‘ نامی جانور کی نسل سے تعلق رکھتی ہے گو کہ درندہ صفت ہونے کی شہرت رکھتی ہے مگر انسانوں پر ان کے حملوں کی کچھ زیادہ واقعات نہیں ہیں۔ تاہم اورلینڈو کے واقعے کے بعد اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ ویلز مچھلیوں کو قید کرکے ایک مخصوص تالاب میں رکھنا، اور سدھانا کہیں اس جانور کے خلاف فطرت تو نہیں اور کیا یہ مناسب ہے یا نہیں؟