قندھار: چارخود کش حملے 30 ہلاک

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں یکے بعد دیگرے چار خود کش حملوں میں تیس افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہو گئے ہیں۔

افغانستان دھماکہ ( فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنقندھار کا علاقہ طالبان کے گڑھ سمجھا جاتا ہے

اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے قندھار جیل کے قریب پہلا دھماکہ کیا اور اس کے بعد یکے بعد دیگرے شہر میں تین اور خود کش حملے ہوئے جس سے شہر کی زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

قندھار ہمیشہ سے افغانستان کی سیاست کا اہم مرکز رہا ہے ۔ملا عمر سمیت طالبان کی اعلیٰ قیادت کا تعلق بھی قندھار سے ہے اور موجودہ صدر حامد کرزئی کا تعلق بھی قندھار سے ہیں۔

امریکہ نے حال ہی میں کہا ہے کہ قندھار کے پڑوسی صوبے ہلمند میں آپریشن کے اختتام کے بعد وہ قندھار میں بھی اسی طرح کا فوجی آپریشن کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی احمد ولی کرزئی نے، جو صوبائی کونسل کے سربراہ ہیں، کہا ہے کہ حملہ آور قندھار جیل کو توڑنا چاہتے تھے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ جون دو ہزار آٹھ میں اس طرح کے ایک حملے میں طالبان نے قندھار جیل کے مرکزی دروازے کو توڑ کر سینکڑوں قیدیوں کو رہا کروا لیا تھا۔

احمد ولی کرزئی نے کہا ہے اس بار طالبان اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں اور وہ جیل کی دیواروں کو توڑنے میں ناکام رہے ہیں لیکن اردگرد کی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

قندھار کے بڑے ہسپتال کے سربراہ عبد القیوم پکہلا نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے میں عام شہری اور پولیس اہلکار شامل ہیں۔