برطانیہ کی پوپ سے معافی
برطانوی وزارت خارجہ نے پوپ بینڈکٹ کے بارے میں ’بیوقوفانہ دستاویز‘ پر معافی مانگی ہے جس میں ایک برطانوی اہلکار نے تجویز کیاگیا تھا کہ پوپ کے دورہِ برطانیہ کے دوران پوپ کنڈوم کو جاری کیا جائے۔‘

اس اہلکار نےتجویز کیا تھا کہ رضاکارانہ کام کےلیےرقم اکٹھی کرنےکےلیے پوپ بینڈکٹ اور ملکہ برطانیہ کے ’دوگانے‘ کا بھی بندوبست کرنے کے علاوہ پوپ کے استقبال کےلیے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور گلوکارہ سوزن بوئیل کو مدعو کیا جائے۔
برطانوی وزارت خارجہ نےستمبر میں پوپ کے دورہ برطانیہ کو یادگار بنانے کے لیے اپنے اہلکاروں کو اپنے خیالات ایک دستاویز پر درج کرنے کے لیے کہا تھا۔
ایک اہلکار نے اپنی تجاویز میں لکھا کہ پوپ کے دورہ برطانیہ کے موقع پر ’پوپ کنڈوم‘ کا اجرا کیا جائے اور پوپ کو مشورہ دیا جائےکہ وہ سولہویں صدی میں کیتھولک چرچ کی طرف سے سپین کے برطانیہ پرحملہ کی حمایت کرنے پر معافی مانگیں۔
برطانوی وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ بیوقوفانہ دستاویز برطانوی پالیسی کی غمازی نہیں کرتا۔ روم میں برطانوی سفیر میلکم میکہون نے ویٹیکن اہلکاروں سے ملاقات کے دوران برطانیہ کی طرف اس ’بیوقوفانہ‘ دستاویز پر معافی مانگی۔
برطانوی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے اس دستاویز کی کسی موقع پر منظوری نہیں دی گئی اور نہ ہی اسے وزیر کو دکھایا گیا ہے اور جوں ہی اعلی اہلکاروں کو اس کا پتہ چلا تو اس دستاویز کو واپس بلا لیا گیا۔
جس بیوورکریٹ نےیہ پوپ کے بارے میں بیوقوفانہ خیالات پیش کیے تھے اس وارننگ دے کر کسی اور عہدے پر تعینات کر دیا گیا ہے۔
پوپ بینڈکٹ سولہ ستمبر سے برطانیہ کا تین روز دورہ کریں گے۔


















