فیصل شہزاد: چارج شیٹ کی تفصیل جاری
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں ناکام کار بم حملہ کرنے والے پاکستانی نژاد فیصل شہزاد کے خلاف چارج شیٹ میں ان کے پاکستانی روابط اور واقعے کی ایک مجموعی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے تاہم ابھی ان الزامات کو عدالت میں ثابت کرنا باقی ہے۔

ایف بی آئی کی جانب سے نیویارک کی عدالت میں پیش کردہ دس صفحات دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ فیصل شہزاد نے گرفتاری کے فوراً بعد اقرار کیا تھا کہ ٹائمز سکوائر میں انھوں نے بم دھماکہ کرنے کے لیے گاڑی کھڑی کی تھی۔
<link type="page"><caption> فیصل شہزاد کون؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/05/100504_faisal_shahzad_profile.shtml" platform="highweb"/></link>
فیصل شہزاد سے کی گئی تفتیش اور واقعہ کی ابتدائی تحقیقات پر مبنی ایف بی آئی کی دستاویز کے مطابق فیصل شہزاد نے یہ بھی اقرار کیا کہ انھوں نے بم بنانے کی تربیت پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں حاصل کی تھی۔
ایف بی آئی کے مطابق ٹائمز سکوائر کے واقعے سے چند روز قبل ملزم نے ایک موبائل فون، دھماکے میں استعمال ہونے والی گاڑی اور آتش بازی کا سامان خریدا تھا۔
ایف بی آئی نے ان کے موبائل نمبر سے حاصل شدہ ریکارڈ کی بنیاد پر دعویٰ کیا ہے کہ اس ساری خریداری کے دوران ملزم پاکستان میں ایک مخصوص ٹیلی فون نمبر پر کال کرتے اور وہاں سے آنے والی کالز سنتے رہے۔
ٹائمز سکوائر کے واقعے کے بعد انھوں نے موبائل فون کو استعمال نہیں کیا تھا۔
امریکی امیگریشن ریکارڈ کے حوالے سے بتایا گیا ہے تین فروری کو امریکہ پہنچنے پر ملزم نے حکام کو بتایا کہ وہ والدین سے ملنے پاکستان گئے تھے اور پانچ ماہ وہاں رہنے کے بعد یک طرفہ ٹکٹ پر امریکہ واپس آئے ہیں
۔انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس امریکہ میں رہائش نہیں ہے اور وہ ملازمت تلاش کرنے کے دوران کسی موٹل میں قیام کریں گے۔ ملزم نے بتایا کہ ان کی بیوی پاکستان میں ہی رک گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دبئی جانے والی پرواز سے گرفتاری کے وقت فیصل شہزاد نے بتایا کہ وہ جس گاڑی میں ہوائی اڈے تک آئے اس میں پستول موجود تھا۔ ملزم کی نشاندہی پر ایف بی آئی کے ایجنٹ نے وہ پستول بھی برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔



















