بگرام میں خفیہ جیل: ریڈکراس
افغانستان میں بگرام کے امریکی اڈے میں ایک عام جیل کے علاوہ ایک علحیدہ اور خفیہ جیل بھی موجود ہے۔ اس کی تصدیق عالمی امدای ادارے ریڈ کراس نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئےکی۔

اس جیل کا انکشاف یہاں قید نو سابق قیدیوں نے بی بی سی سے اپنی گفتگو میں کیا تھا اور بتایا تھا کہ انھیں جیل میں ایک الگ عمارت میں رکھ کر اذیتیں دی گئیں تھیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ پروان میں قائم ’ نظر بندی سینٹر‘ ہی اصل اور واحد جیل ہے۔ تاہم فوج نے اعتراف کیا کہ وہ اذیتیں دینےکے الزامات کی چھان بین کریں گے۔
بین الاقوامی امدای ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ 2009 کے بعد سے امریکی حکام انھیں ایسے قیدیوں کی ناموں کے بارے میں اگاہ کرتی رہی ہے جنھیں ایک علحیدہ جیل میں مقید کیا گیا تھا۔
ریڈکراس نےعلیحد جیل کے بارے میں تصدیق بی بی سی کی جانب سے پوچھے جانے والے آس سوال کے جواب میں کی ہے۔ جس میں بی بی سی نے اس جیل کے بارے میں ریڈکراس سے تصدیق چاہی تھی۔ جو اس علاقے میں ’توڑ‘ جیل یعنی ’تاریک جیل‘ کے کے نام سے جانی جاتی ہے۔
بی بی سی نے حالیہ مہنیوں میں ایسے کوئی نو قیدیوں سے انٹر ویو کیے اور ان کے بیانات ریکارڈ کیے تھے جو اسی جیل میں رکھے گئے تھے۔
ان سب ہی قیدیوں نے لگ بھگ ایک سے احوال بیان کیا اور کہا کہ امریکی حکام نے انھیں ایسے سرد کمروں میں مقید رکھا جہاں شب و روز ان کے سروں پر بجلی جلی رہتی تھی تاکہ وہ نیند سے محروم رہیں۔
ان تمام الزامات کے جواب میں بگرام میں حراستی سینٹر کے انچارج امریکی وائس ایڈمرل رابرٹ ہارورڈ نے کسی خفیہ سیل کے وجود اور وہاں زیر حراست افراد کو اذیتیں دینے کی تردید کی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا افغانستان میں تمام مشتبہ افراد کو ’پروان‘ میں قائم حراستی مرکز میں ہی رکھا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















