القاعدہ سے تعاون، پندرہ سال قید
امریکہ میں عدالت نے ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری کو القاعدہ کی مدد کرنے کے جرم میں پندرہ سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔

تیس سالہ سید فہد ہاشمی کو یہ سزا بدھ کو نیویارک میں مین ہٹن کی ایک عدالت نے سنائی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فہد ہاشمی پر الزام تھا کہ انھوں نے پاکستان میں القاعدہ کے شدت پسندوں کو موزے، بسترِ استراحت اور کمبل نما لباس پہنچانے کے لیے اپنے ایک دوست کی مدد کی تھی۔
امریکی محکمہ انصاف کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تیس سالہ سید فہد ہاشمی نے اس سال ستائیس اپریل کو اپنے جرم کا اعتراف کیا تھا کہ انھوں نے افغانستان میں امریکی فوجوں کے خلاف لڑائی کے لیے القاعدہ کو مادی مدد یا وسائل فراہم کیے تھے۔
نیویارک کی ڈسٹرکٹ چیف جج لوریٹا پریسکا نے ملزم کو قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا سنائی ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد امریکی حکومت کے وکیل پریت بھرارا نے کہا کہ ہاشمی کو ان کے کیے کی سزا ملی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کی مدد کرنے والے افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
اس سے پہلے فہد ہاشمی اور وکلائے استغاثہ کے درمیان ہونے والی ڈیل کے تحت فہد نے اپنے اوپر لگائے گئے کچھ الزامات تسلیم کر لیے جبکہ ان پر عائد تین الزامات واپس لے لیے گئے۔ اس ڈیل کے نتیجے میں فہد کو مزید مقدمے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اگر یہ مقدمہ چلتا تو فہد کو ستّر برس قید کی سزا ہو سکتی تھی تاہم اب استغاثہ نے زیادہ سے زیادہ پندرہ سال قید کی سفارش کی ہے۔
تیس سالہ فہد ہاشمی کو چھ جون دو ہزار چھ میں امریکہ کی طرف سے جاری کردہ ورانٹ پر لندن سے گرفتار کرکے امریکہ لایاگيا تھا اور اس وقت سے انہیں مین ہٹن کی ایک جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
وہ پہلے شخص تھے جنہیں دہشتگردی کے شبہے میں برطانیہ نے امریکہ کے حوالے کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی حکومت کا الزام تھاکہ دو ہزار چار کی شروعات میں لندن میں فہد ہاشمی کے فلیٹ پرجنید بابر نامی ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری دو ہفتے تک آ کر ٹھہرا تھا جس کے سامان میں وہ برساتی کوٹ اور دستانے شامل تھے جو بعد میں اس نے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک مبینہ دہشتگرد کو مہیا کیے تھے۔
فہد ہاشمی پر امریکی حکومت کی طرف سے دوسرا الزام یہ ہے جنید بابر کو انہوں نے اپنا موبائل فون استعمال کرنے کی بھی اجازت دی تھی جس پر سے اس نے دوسرے مشتبہ دہشتگردوں سے بات چیت کی تھی۔
فہد ہاشمی پر امریکی حکومت کی طرف سے ایسےالزامات جنید بابر کے ان کے خلاف بیانات کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں۔ جنید بابر کو خود ستر سال کی سزا دی گئي ہے
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہاشمی کو قانونی کارروائی سے پہلے ہی اذیتناک حراست میں رکھا گیا۔
امریکہ میں انسانی حقوق کے وکلاء کے مطابق، فہد ہاشمی پر مقدمہ امریکی قانون میں نظریہ ’گلٹ بائي ایسوسی ایشن‘ یعنی ’جرم با صحبت یاراں‘ کی بنیاد پر بنایا گيا جس میں آئین میں ملے ہوئے حق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی کو محض مشتبہ ہونے پر سزا دی جاسکتی ہے۔ اس نظریہ قانون کے مطابق، اگر کوئي شخص مجرم نہیں تو مشتبہ ضرور ٹھہرایا جاتا ہے۔
فہد ہاشمی نے جو نیویارک کے علاقے کوئينز میں پلے بڑھے ہیں نیویارک میں بروکلین کالج سے گریجويشن کرنے کے بعد دو ہزار پانچ میں لندن کی میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کیا تھا۔ فہد ہاشمی کا تعلق دوران طالب عالمی ’المہاجرون‘ نامی تنظیم سے بتایا جاتا ہے























