صدر اوباما نے جنرل میکرسٹل کو برطرف کر دیا

امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل سٹینلے میک کرسٹل کو برطرف کر دیا ہے۔ ان کی جگہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو تعینات کیا گیا ہے۔
اس سے قبل افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل سٹینلے میک کرسٹل وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوباما سے ملاقات کی تھی۔
صدر اوباما سے اپنی تیس منٹ کی ملاقات میں جنرل میک کرسٹل نے رولنگ سٹون نامی میگزین کو اپنے انٹرویو میں اوباما انتظامیہ کے اراکین کے بارے میں جو توہین آمیز باتیں کی تھیں، اس کی وضاحت کی۔ جنرل میک کرسٹل پہلے ہی اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کر چکے ہیں اور امریکی فوجی اہلکاروں کے مطابق جنرل میک کرسٹل استعفیٰ دینے پر تیار ہیں۔
صدر اوباما سے ملاقات سے قبل، امریکی جنرل نے وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس سے ملاقات کی۔
جنرل میک کرسٹل نے صدر براک اوباما سے علیحدگی میں اور یہ ملاقات لگ بھگ نصف گھنٹہ جاری رہی۔
جنرل میک کرسٹل نے افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے ایک ماہانہ اہم ملاقات میں بھی شرکت کرنی تھی لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا وہ وہاں موجود تھے یا نہیں۔
اس سے قبل امریکہ کے صدر باراک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل سٹینلے میک کرسٹل کے ایک میگزین کے لیے لکھے گئے مضمون پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل مککرسٹل نے غلط اندازے قائم کیے ہیں۔

واشنگٹن میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا تھا کہ وہ جنرل میک کرسٹل سے بات کرنے کے بعد ہی ان کے مستقل کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر اوباما نے جنرل میک کرسٹل کو ملاقات کے لیے واشنگٹن طلب کیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے گزشتہ روز معمول کی بریفنگ کے دوران اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ صدر اوباما نے اس آرٹیکل کو پڑھ کر ناراضی کا اظہار کیا۔
جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ کیا جنگ کے دوران کسی جنرل کا واپس طلب کیا جانا ان سے مستعفی ہونے کے مطالبے کے مترادف نہیں تو انھوں نے کہا کہ وہ صدر اوباما سے جنرل کی ملاقات کے بارے میں پہلے سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔
ایک اور سوال پر کہ پھر ان کو واپس بلانے کا کیا مقصد ہے اس پر ترجمان نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں۔
جنرل میک کرسٹل کا متازعہ مضمون جس میں انھوں نے امریکی حکومت کے اعلی اہلکاروں اور افغانستان میں امریکی سفیر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے رواں ہفتے کے آخر میں اس میگزین میں شائع ہو گا۔
جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے جریدے رولنگ سٹون کے لیے لکھے گئے اس مضمون پر معذرت کر لی ہے جس میں انہوں نے انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں پر تنقید کی تھی۔
مضمون میں جنرل میک کرسٹل نے کابل میں امریکی سفیر کارل ایکنبری کے بارے میں کہا تھا کہ انہوں نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
امریکی جنرل کے معاونین کے مطابق وہ صدر اوباما سے بھی ’مایوس‘ تھے۔ دریں اثناء امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ میں کہا گیاہے کہ امریکی فوج لاکھوں ڈالر افغان سکیورٹی فرموں کو دیتی رہی ہے جن سے یہ پیسے جنگی سرداروں کو پہنچتے رہے ہیں۔
رولنگ سٹون میں مذکورہ مضمون جمعہ کو شائع ہوگا لیکن جنرل میک کرسٹل نے اس سے ہونے والے ممکنہ نقصان کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ’میں اس مضمون پر معافی مانگتا ہوں۔‘ ’یہ ایک غلطی تھی جو کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘
جنرل میک کرسٹل نے کہا کہ وہ صدر اوباما، ان کی سکیورٹی امور کی ٹیم اور اس لڑائی میں شامل فوجی اور غیر فوجی اہلکاروں کا پورا احترام کرتے ہیں اور اس لڑائی میں کامیابی ان کا عزم ہے۔
نیٹو کے ترجمان نے کہا کہ ایسے مضمون کی اشاعت ’بدقسمتی‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل اینڈرز فوگ ریسموسین کو جنرل میک کرسٹل کی صلاحیتوں پر پورا اعتماد ہے۔
شمالی افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار کوینٹن سومرویل نے کہا کہ رولنگ سٹون میں شائع ہونے والا مضمون امریکی انتظامیہ اور اور فوج کے درمیان دیرینہ اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔
مضمون کا ایک مرکزی ہدف کابل میں امریکی سفیر تھے۔ جنرل میک کرسٹل نے کہا کہ امریکی کانگریس میں افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے کے معاملے پر ہونے والی بحث کے دوران انہوں نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تھی۔
جنرل میک کرسٹل نے کہا کہ امریکی سفیر اپنے آپ کو مستقبل میں تنقید سے بچانے کے لیے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تاریخ کے کتابوں میں اچے نظر آنا چاہتےتھے۔
ایک موقع پر ایسا محسوس ہوا کہ جنرل میک کرسٹل امریکی نائب صدر کا مذاق اڑا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’کیا آپ نائب صدر بائڈن کے بارے میں بات کر رہے ہیں؟ وہ کون ہے‘۔
جنرل میک کرسٹل کے ایک معاون نے ان کی صدر اوباما سے ملاقات کو تصویر اتروانے کے لیے دس منٹ کی ملاقات قرار دیا۔ جنرل کے معاون نے کہا کہ اوباما ان کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے اور نہ ہی انہوں نے ان کی باتوں پر زیادہ دھیان دیا۔ ’باس بہت مایوس تھے‘۔
جنرل میک کرسٹل مضمون میں کہتے ہیں کہ وہ بہت تکلیف دہ وقت تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسی تجویز پیش کر رہی تھے جو کوئی نہیں ماننا چاہتا تھا۔





















