’خفیہ دستاویزات میں کچھ نیا نہیں ہے‘

فائل فوٹو، صدر اوباما
،تصویر کا کیپشنانھوں نے ان ہی مشکلات کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے ہم نے اپنی پالیسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی تھی: صدر اوباما

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ویکی لیکس پر خفیہ دستاویزات کا جاری ہونا قابلِ تشویش ہے لیکن ان میں کوئی نئی معلومات منکشف نہیں کی گئی ہیں۔

صدر براک اوباما نے منگل کو خفیہ دستاویزات پر پہلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معلومات ان کے افغانستان میں فوجی حکمت عملی میں تبدیلی کے فیصلے کو تقویت دیتی ہیں۔

صدر اوباما نے واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ جب کہ مجھے میدان جنگ سے حساس خفیہ معلومات کے افشا ہونے پر تشویش ہے، جس کی وجہ سے انفرادی طور پر یا آپریشنز کو خطرہ پہنچنے کا خدشہ ہے، حقیقت یہ ہے کہ ان دستاویزات میں کسی ایسے نئے مسئلے کو منظرعام پر نہیں لایا گیا جسے افعانستان پر عوامی بحث کے دوران بتایا نہ گیا ہو۔ ‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ انھوں نے ان ہی مشکلات کا ذکر کیا ہے جس کی وجہ سے ہم نے اپنی پالیسی میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی تھی۔‘

صدر اوباما نے کہا کہ ’ سات سال تک ہم خطے میں درپیش مشکلات سے نمٹنے کی کوئی موثر حکمت عملی اپنانے میں ناکام رہے، یہ افغانستان ہی تھا جہاں سے نائن الیون کے حملے اور دہشت گردی کے دوسرے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔‘

واضح رہے کہ ویکی لیکس میں شائع ہونے والی دستاویزات میں 2004 سے لے کر 2009 تک محاذ جنگ اور مختلف فوجی یونٹوں کی خفیہ رپورٹیں شامل ہیں۔

ان خفیہ رپورٹس میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن دلان کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔ ان معلومات کے مطابق امریکہ کواسامہ بن لادن کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

اسی دوران پینٹا گون کے حکام یہ تفتیش کررہے ہیں کہ نوے ہزار سے زیادہ خفیہ معلومات کس نے اور کیسے افشا کی گئیں۔