ہلاکتوں پر امریکہ، عراق میں اختلاف

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنعراق کا دعوی ہےکہ جولائی میں پانچ سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے

عراقی اور امریکی عہدیداران میں اس بات پر اختلافات سامنے آئے ہیں کہ جولائی میں کتنے لوگ مارے گئے اور آیا گزشتہ دو برسوں میں یہ جانی نقصان کے لحاظ سے عراق کے لیے بدترین مہینہ ثابت ہوا ہے۔

امریکی فوج کےمطابق جولائی میں دو سو بائیس عراقی ہلاک ہوئے جبکہ عراق کا دعوی ہے کہ مرنے والوں کی تعداد پانچ سو پینتیس ہے۔ امریکہ نے یہ تعداد ان خدشات کے پس منظر میں جاری کی ہے کہ ملک کے پارلیمانی انتخابات کے بعد نئی حکومت کی تشکیل میں تاخیر کا شدت پسند فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ملک کے پارلیمانی انتخابات مارچ میں مکمل ہوگئے تھے لیکن کسی بھی اتحاد کو واضح اکثریت نہ مل پانے کی وجہ سے ابھی تک نئی حکومت نہیں بن پائی ہے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اس دوران شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق سیاسی غیریقینی کی وجہ سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

سب سے زیادہ سیٹیں جیتنے والی سنی شیعہ اور کرد جماعتیں اس بارے میں کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی ہیں کہ وزیر اعظم کی کرسی کون سنبھالے گا۔

اصل رسہ کشی سابق وزیر اعظم ایاد الاوی اور موجودہ وزیر اعظم نوری المالکی کے درمیان ہے۔

مسٹر الاوی کی قیادت والے سنی حمایت یافتہ سیکولر اتحاد کو اکیانوے سیٹیں ملی تھیں جو مسٹر مالکی کے اتحاد سے صرف دو زیادہ ہیں۔ مسٹر مالکی کے اتحاد میں زیادہ تر شیعہ سیٹیں شامل ہیں۔

لیکن حکومت بنانے کے لیے ایک سو تریسٹھ سیٹیں درکار ہیں جس کا مطلب ہے کہ مخلوط حکومت کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔

بغداد سے نامہ نگار ہیو سائکس کا کہنا ہےکہ لوگ اس تعطل سے عاجز آگئے ہیں۔ عراق میں آجکل شدید گرمی پڑ رہی ہے، درجہ حرارت کئی مرتبہ پچاس ڈگری سیلسیس کو پار کر چکا ہے، لیکن بجلی کی سپلائی بہت خراب ہے۔ اس صورتحال کے خلاف بغداد کی سڑکوں پر کئی مظاہرے ہو چکے ہیں

اور ہیو سائکس کےمطابق سیاسی خلا میں تشدد بھی بڑھ رہا ہے۔

امریکی حکام نے یہ نہیں بتایا ہے کہ ان کے اعداد و شمار اور عراقی حکومت کی اعلان کردہ تعداد میں اتنا فرق کیوں ہے۔ عراق کا کہنا ہے کہ اس دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ زخمی بھی ہوئے جبکہ امریکہ کے مطابق یہ تعداد سات سو بیاسی ہے۔

ایک امریکی فوجی بیان کے بطابق’ یہ دعوی کہ مئی دو ہزار آٹھ کے بعد سے عراق میں جولائی سب سے خونریز مہینہ تھا، غلط ہے۔’

اتوار کو ہی ایک اہم شیعہ گروپ نے کہا کہ جب تک مسٹر مالیکی کی پارٹی وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نئے امیدوار کا نام پیش نہیں کرتی، وہ حکومت سازی کے بارے میں بات چیت میں حصہ نہیں لیں گے۔ عراقی قومی اتحاد انتخابات میں تیسرا سب سے بڑا گروپ بن کر ابھرا تھا جو بعد میں مسٹر مالیکی کے اتحاد میں شامل ہوگیا تھا۔

اس بات کے خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ سیاسی غیر یقینی کی وجہ سے عراق سے امریکی افواج کے انخلا کا ٹائم ٹیبل بگڑ سکتا ہے۔