صومالیہ: اراکین پارلیمان سمیت تیس ہلاک

صومالیہ میں مسلح جنگجوؤں نے صدارتی محل کے قریب ایک ہوٹل میں گھس کر پارلیمان کے متعدد ممبران کو ہلاک کر دیا ہے۔
صومالیہ میں افریقی یونین کی امن فوج کے ترجمان نے اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔
ترجمان ماج باہوکو کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کم از کم پندرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
موغادیشو میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد اولاد حسن نے بتایا ہے کہ حملہ آور فوجیوں کے بھیس میں ہوٹل میں داخل ہوئے تھے۔
حملہ آور مونا ہوٹل میں داخل ہوئے، وہاں موجود سیکورٹی گارڈ پر گولی چلائی اور پھر ان میں سے ایک نے اپنے آپ کو ہوٹل کی بلڈنگ کے اندر بم کے دھماکے سے اڑا دیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب گزشتہ دو روز سے اسلامی شدت پسند گروپ الشباب اور افریقی یونین کی حمایت یافتہ حکومتی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔
ماج باہوکو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا اور سیکورٹی فورسز حملہ آوروں کی تلاش میں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابھی یہ بتانا مشکل ہے کہ اس حملے میں پارلیمان کے کتنے اراکین ہلاک ہوئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مونا ہوٹل سے ایک رکن پارلیمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہوٹل میں ہر طرف لاشیں پڑی تھیں اور یہ ایک ' قتل عام' ہے۔
وہیں ایک سرکاری سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے ایے ایف پی کو بتایا کہ ’ابھی تک میں آپ کو صرف یہ بتا سکتا ہوں کہ اس حملے میں پارلیمان کے کئی اراکین ہلاک ہوئے ہیں۔ میرے خیال میں چار اراکین ہلاک ہوئے ہیں‘
الشباب کے ایک ترجمان نے پیر کو جنگ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ افریقی یونین کے خلاف ایک بڑی جنگ شروع کر رہے ہیں۔
اس لڑائی میں اب تک چالیس سے زيادہ افراد ہلاک اور ایک سو تیس زخمی ہو چکے ہیں۔






















