اسلام مخالف رکنِ پارلیمان پر مقدمہ شروع

گیرت وائلڈرز
،تصویر کا کیپشن’عوامی بحث کے تناظر میں اپنی رائے کے اظہار کی سزا مل رہی ہے‘

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے اسلام مخالف رہنما گیرت وائلڈرز پر مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں ایمسٹرڈیم میں مقدمہ شروع ہوگیا ہے۔

مسٹر وائلڈرز نے، جو قرآن کا موازنہ جرمن نازی رہنما ہٹلر کی کتاب کے ساتھ کر چکے ہیں، مقدمے کے آغاز پر کہا کہ یہ مقدمہ آزادی اظہار پر ہے۔

اگر انہیں نفرت پھیلانے کا مجرم پایا گیا تو انہیں ایک برس قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گیرت وائلڈرز کا تعلق فریڈم پارٹی سے ہے جو جون میں منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد ولندیزی پارلیمان میں تیسری بڑی جماعت ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ مخلوط حکومت میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔

استغاثہ نے وائلڈرز پر نفرت پھیلانے اور تعصب کے پانچ الزامات عائد کیے ہیں اور عدالت ان کے سنہ 2006 سے سنہ 2008 کے درمیان دیے جانے والے بیانات کی جانچ پڑتال کرے گی۔

ایسے ہی ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ہالینڈ میں کافی اسلام آ چکا ہے، اب کسی مسلمان کو ہالینڈ نہ آنے دیا جائے‘۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’میں نے ہالینڈ میں بہت قرآن دیکھ لیا، اس فاشسٹ کتاب پر پابندی لگائی جائے‘۔

گیرت وائلڈرز نے سنہ 2008 میں ایک مختصر دورانیے کی فلم ’فتنہ‘ بھی ریلیز کی تھی جس نے مسلم دنیا میں اشتعال پیدا کر دیا تھا۔

عدالت میں اپنے ابتدائی بیان میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں’عوامی بحث کے تناظر میں اپنی رائے کے اظہار‘ کی سزا دی جا رہی ہے۔ گیرت کے وکیل نے جج کو بتایا کہ ان کے موکل اس بیان کے بعد مقدمے کی کارروائی کے دوران خاموش رہنے کا حق استعمال کرتے ہوئے کسی سوال کا جواب نہیں دیں گے۔

اس پر جج جان مورز نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ گیرت وائلڈرز ’بحث سے بچنا چاہ رہے ہیں‘۔ جج کے ان ریمارکس پر گیرت کے وکیل نے انہیں جانبدار قرار دیتے ہوئے جج کی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا۔

اس پر مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی گئی اور یہ طے کرنے کے لیے کہ آیا جج مورز اس مقدمے کی سماعت کریں گے یا نہیں، ایک علیحدہ سماعت کا انتظام کیا گیا۔ اس معاملے کی سماعت کرنے والا پینل اب جج کی تبدیلی کے معاملے پر منگل کو فیصلہ کرے گا۔